سوال
اکیلے صف میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے۔ کیا اس صورت میں اگلى صف سے کسى کو پیچھے لے سکتے ہیں؟
جواب
جواب مختصر
بظاہر احادیث کا بغور مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کسی شخص نے صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھ لیا تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی کیونکہ جماعت کے ساتھ صف میں کھڑے ہونا نماز صحیح ہونے کے شرائط میں سے ہے ۔
لیکن یاد رہے اس واجب کی ادائیگی انسان کى استطاعت سےجڑى ہوئی ہے۔ اگر واجب کى ادائیگى کسى شرعى عذر یا مجبورى کى صورت میں نہ ادا ہو سکے تو یہ واجب ساقط ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالى کا ارشاد ہے۔ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُمۡ وَٱسۡمَعُواْ " التَّغَابُن" 16 ۔تم حسب استطاعت اللہ تعالی سے ڈرو ۔
اسی طرح نبی مکرم ﷺکا بھی فرمان ہے کہ: «إِذَاأَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ» ([1])۔
جب میں تمہیں کسی کام کو کرنے کا حکم دوں تو اس پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کیا کرو"
اس لیے اگر اسے اگلی صف میں جگہ ملے تو و ہیں کھڑا ہو، لیکن اگر اگلی صف میں جگہ نہ ملے تو پھر صف میں کھڑے ہونے کا واجب حکم شرعی طور پر ساقط ہو جائے گااور مجبورى کى صورت میں اکیلے صف میں اس کى نماز درست ہوگى۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اسلام کے شعار میں سے ہے۔اور اکیلے نماز پڑھنے سےاس شعار کا مقصد ختم ہوجاتا ہے۔
یہ انتہائى اہم مسئلہ ہے کہ اگر امام کی اقتدا میں نماز پڑھی جا رہی ہو تو صف کے پیچھے اکیلے مرد کی نماز درست ہوگى یا باطل؟اگر پہلے والى صف مکمل ہوگئی ہواور کوئی نمازی بعد میں آئے تو وہ صف کے پیچھے اکیلے کھڑا ہو گا یا پھر پہلى صف سے کسی کو کھینچ کر اس کے ساتھ کھڑا ہوگا ؟
اس مسئلہ کو دلائل کى روشنى میں جاننے کى کوشش کرتے ہیں:
صف کے پیچھے اکیلے کھڑا ہونا حدیث کی رو شنى میں منع ہے ۔ صف میں اکیلے نماز پڑھنے والے شخص کى نماز باطل ہو جاتى ہے۔
دلائل ملاحظہ فرمائیں :
دلیل نمبر 1 : حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
إِنَّ رَجُلًا صَلّٰی خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَہ،، فَأَمَرہ، أَنْ یُّعِیدَ الصَّلَاۃَ. ([2])۔
ترجمہ: " ایک آدمی نے اکیلے صف کے پیچھے نماز ادا کی تو رسولِ اکرم ﷺنے اسے نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم فرمایا۔"
دلیل نمبر 2 : حضرت علی بن شیبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَانْصَرَفَ، فَرَاٰی رَجُلًا یُّصَلِّي فَرْدًا خَلْفَ الصَّفِّ، فَوَقَفَ نَبِيُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْصَرَفَ الرَّجُلُ مِنْ صَلَاتِہِ، فَقَالَ لَہ، : ‘اسْتَقْبِلْ صَلَاتَکَ، فَلَا صَلَاۃَ لِفَرْدٍ خَلْفَ الصَّفّ. ([3])۔
ترجمہ: " آپ ﷺنے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺاس کے نماز سے فارغ ہونے تک اس کے پاس کھڑے ہو گئے۔ پھر(جب اس نے سلام پھیرا تو)اس سے فرمایا : اپنی نماز نئے سرے سے پڑھو ، کیونکہ صف کے پیچھے کسی بھی اکیلے شخص کی کوئی نماز نہیں ہوتی۔"
مذکورہ حدیثوں سے ثابت ہوا کہ صف میں کھڑے ہونا نماز درست ہونے کى شرائط میں سے ہے۔ اور واجب ہے، لہذا اگر کوئی شخص صف کے پیچھے اکیلے نماز ادا کرے تو اس کی نماز باطل ہے، اور اس پر لازم ہے کہ صف بندی کے واجب عمل کو چھوڑنے کی وجہ سے نماز دوبارہ پڑھے۔
خیال رہے کہ اس واجب کى ادائیگى انسان کى استطاعت سےجڑى ہے۔ اگر واجب کى ادائیگى کسى شرعى عذر یا مجبورى کى صورت میں نہ ہو سکے تو یہ واجب ساقط ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالى کا ارشاد ہے۔ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُمۡ وَٱسۡمَعُواْ " التَّغَابُن : 16
ترجمہ: تم حسب استطاعت اللہ تعالی سے ڈرو ۔
اسی طرح نبی مکرم ﷺکا بھی فرمان ہے کہ:
«إِذَاأَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ» ([4])۔
ترجمہ: " جب میں تمہیں کسی کام کو کرنے کا حکم دوں تو اس پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کیا کرو"
اس لیے اگر اسے اگلی صف میں جگہ ملے تو و ہیں کھڑا ہو، لیکن اگر اگلی صف میں جگہ نہ ملے تو پھر صف میں کھڑے ہونے کا واجب حکم شرعی طور پر ساقط ہو جائے گااور مجبورى کى صورت میں اکیلے صف میں اس کى نماز درست ہوگى۔
کیونکہ نماز با جماعت میں نمازی پر دو چیزیں لازم ہوتی ہیں:
پہلی چیز یہ ہے کہ نماز با جماعت ادا کرے۔
اور دوسری یہ ہے کہ نمازیوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہو، چنانچہ اگر کوئی ایک کام ادا کرنا مشکل ہو تو دوسرا ادا کرنا لازم رہے گا۔
اگر اگلى صف مکمل ہونے کى وجہ سے نمازی صف کے پیچھے اکیلے ہی نماز ادا کر لیتا ہے تو یہی وہ عمل ہے جس کی اس وقت اس نمازی میں استطاعت ہے۔
اگر کوئی کہے کہ: آپ ﷺکا فرمان: (کسی اکیلے مرد کی صف کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔) یہ عام ہے اور اس میں ایسی کوئی تفصیل نہیں ہے کہ آگے والی مکمل ہو یا نہ ہو۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص صف کے پیچھے اکیلا نماز ادا کرے تو صف بندی کا واجب عمل چھوڑنے کی وجہ سے اس کی نماز باطل ہے؛ لیکن جب نمازی صف میں شامل ہی نہیں ہو سکتا تو صف میں شامل ہونے کا وجوب ساقط ہو جائے گا، پھر یہ بھی ہے کہ نبی مکرم ﷺکسی ایسے کام کی وجہ سے نماز کو باطل قرار نہیں دے سکتے جس کام کو کرنے کی نمازی کے پاس صلاحیت ہی نہیں ہے۔ ([5])۔
اگر اگلى صف مکمل ہو تو بعض علماء صف سے کسى نمازى کو کھینچنے کے قائل ہیں۔ لیکن خیال رہے کہ اس سلسلے میں پیش کى جانے والى حدیث ضعیف ہے۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں کہ نبى ﷺنے ایک صحابى کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
« ألا دخلت معهم أو اجتررت أحداً » ([6])۔
ترجمہ: تم نماز میں کیوں شامل نہ ہوئے یا تم کسى کو اگلى صف سے کھینچ لیتے!
واضح ہو کہ یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے قابل استدلال نہیں۔
اگر غور کیا جائے تو آگے والی مکمل صف میں سے کسی کو پیچھے کھینچنے کی وجہ سے تین پریشانیاں پیدا ہوتى ہیں:
پہلی بات: صف میں شگاف پیدا ہو جائے گا، حالانکہ آپ ﷺنے صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم دیا ہے اور اس بات سے روکا ہے کہ ہم شیطان کے لیے شگاف چھوڑ دیں۔ ([7])۔
دوسری چیز: جس کو آگے والی صف سے پیچھے کھینچا جائے گا یہ اس پر ظلم ہے کہ افضل صف سے کم درجے والی صف میں اسے منتقل کر دیا گیا۔
تیسری چیز: اس سے نمازی کی نماز میں تشویش پیدا ہو گی، اور بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ نماز سے فارغ ہوتے ہی لڑائی جھگڑا شروع ہو جائے۔
خلاصہ یہ کہ جب آدمی مسجد میں آئے اور اگلی صف مکمل پائےتو صف کے پیچھے اکیلے کھڑا ہوجائے ۔ اس حال میں مقتدی معذور ہے ۔ اگلی صف سے کسى کو پیچھے کھیچنا صحیح نہیں ہے۔
واللہ اعلم

