سوال
احادیث نبویہ میں واردتعلیمات پر اداکارى کرنے کاکیا حکم ہے؟ چاہے یہ اداكارى لوگوں اور تھیٹر کے ذریعے ہو یا میڈیا فلموں کے ذریعے ہوں ؟
جواب
جواب مختصر
دینى واقعات پر اداکارى دراصل کافرانہ رسومات کى ایک ترقى یافتہ شکل ہے۔ اس لئے یہ کسى بھى اعتبار سے درست نہیں، اس سے اسلامى بزرگ شخصیات کى توہین ہوتى ہے ، احادیث میں مذکور لوگوں (صحابہ کرام) کی تصویر کشی (ان کے کردار کو ادا) کرنا حرام ہے۔ ان احادیث کى روشنى میں جو جاندار مخلوق کی تصویر کشی کی ممانعت کی طرف اشارہ کرتى ہیں۔
اور اگر تھیٹر میں اسٹیج پر ان کے کردار کى اداکاری کى جائے تواس سے ان بزرگ صحابہ کرام کى توہین و حقارت ہوتى ہے۔
اور اگر یہ اداکارى رسول اللہ r کے کردار کى کی جائے تو یہ انسان کو کفر تک لے جاتى ہے۔ کیونکہ ا س سے رسول اللہ r کے
ذات کى توہین وتحقیر ہوتى ہے۔ یہ طریقہ غیر مسلموں یہود و نصاری کا ہے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اس میں کوئی شک نہیں کہ احادیث میں مذکور لوگوں (صحابہ کرام) کی تصویر کشی (ان کے کردار کو ادا) کرنا حرام ہے۔ ان احادیث کى روشنى میں جو جاندار مخلوق کی تصویر کشی کی ممانعت کی طرف اشارہ کرتى ہیں۔
اور اگر تھیٹر میں اسٹیج پر ان کے کردار کى اداکاری کى جائے تواس سے ان بزرگ صحابہ کرام کى توہین و حقارت ہوتى ہے۔
اور اگر یہ اداکارى رسول اللہ r کے کردار کى کی جائے تو یہ انسان کو کفر تک لے جاتى ہے۔ کیونکہ ا س سے رسول اللہ r کے ذات کى توہین وتحقیر ہوتى ہے۔
واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض احادیث میں چند باتوں کو مثالوں کے ذریعہ سمجھایا ہے جیسے آپ r نے صراط مستقیم اور گمراہی کے راستوں کولکیریں بناکر بیان کیا ہے۔ ([1]) . اس طرح نقشہ بناکر کسى چیز کو سمجھانے میں کوئى حرج نہیں۔ متعدد علماء نے کئى باتوں کو قابل فہم بنانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔ ([2]).
احادیث یا اسلامى واقعات پر اداکارى در اصل غیر مسلموں کا طریقہ ہے۔ نصارى اپنے گرجا گھروں میں حضرت عیسى کى بیت المقدس میں آمد کى کیفیت کو اداکارى کے ذریعہ نئى نسل تک منتقل کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے یہاں پورى ایک ٹیم ہوتى ہے۔ ([3]). ان کے یہاں گرجا گھر سے نکل کر یہ اداکارى تفریح گاہوں اور تھیٹر ہالوں تک پہونچى۔ افسوس کہ چودھویں صدى میں یہ چیز مسلمانوں میں بھى آگئى۔ سب سے پہلے اسکولوں اور کالجز سے اس کا آغاز ہوا۔ پھر ہوتے ہوتے اسلامى واقعات یہاں تک کہ فرشتوں اور انبیاء کرام اورصحابہ کرام کے کرداروں کى بھى اداکارى شروع ہوگئى۔ ([4]).
دینى واقعات پر اداکارى دراصل کافرانہ رسومات کى ایک ترقى یافتہ شکل ہے۔ اس لئے یہ کسى بھى اعتبار سے درست نہیں۔ اس سے اسلامى بزرگ شخصیات کى توہین ہوتى ہے۔
واللہ اعلم

