سوال
نماز جنازہ میں کتنے سلام ہیں؟ ایک سلام یا دو؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اختصار:
نماز جنازہ میں ایک سلام پھیرنا صحابہ کرام رضى اللہ عنہم کے عمل سے ثابت ہے اور یہى راجح قول ہے۔ اگر کوئى دو سلام پھیرے تو بھى جائز ہے کیونکہ اس کى بھى دلیل موجود ہے۔ اس مسئلہ میں سختى اور تشدد مناسب نہیں۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
نماز جنازہ میں سلام کى تعداد کے بارے میں اہل علم کے دو معروف اقوال ہیں:
پہلا قول: جنازہ کى نماز میں ایک سلام ہے۔ یہ حضرت ابن مسعود، ابن عمر، ابن عباس رضى اللہ عنہم اور سعید بن المسیب رحمہ اللہ کا عمل ہے۔ ابن المنذر رحمہ اللہ نے بھى اسى قول کو اختیار کیا ہے۔
ان کى دلیلیں:
(الف) حضرت ابو ہریرہ رضى اللہ عنہ سے مروى ہے کہ نبى ﷺ نے جنازہ کى نماز میں ایک سلام پھیرا۔ ([1])
(ب) حضرت ابو امامہ بن سہل رضى اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضى اللہ عنہم نے انہیں نماز جنازہ کا مسنون طریقہ بتایا:
السُّنَّةُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ أَنْ يُكَبِّرَ الْإِمَامُ ثُمَّ يَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى سِرًّا فِي نَفْسِهِ ثُمَّ يُصَلِّيَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَيُخْلِصَ الدُّعَاءَ لِلْجَنَازَةِ فِي التَّكْبِيرَاتِ لَا يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ ثُمَّ يُسَلِّمَ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً عَنْ يَمِينِهِ
"نماز جنازہ کا طریقہ یہ ہے کہ امام تکبیر کہے، پھر پہلى تکبیر کے بعد دل میں آہستہ سورۃ الفاتحہ پڑھے، پھر نبى ﷺ پر درود پڑھے، پھر باقى تکبیروں میں خالصتاً میت کے لئے دعا کرے، ان میں اور کچھ نہ پڑھے، پھر اپنى دائیں طرف ایک سلام پھیرے۔" ([2])
دوسرا قول: جنازہ کى نماز میں دو سلام ہیں جیسے عام نماز میں ہوتے ہیں۔ یہ امام ابو حنیفہ، امام شافعى اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا مشہور قول ہے۔
ان کى دلیل:
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضى اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَفْعَلُهُنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ إِحْدَاهُنَّ التَّسْلِيمُ عَلَى الْجَنَازَةِ كَالتَّسْلِيمِ فِي الصَّلَاةِ
"تین چیزیں ایسى تھیں جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے مگر لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا: ان میں سے ایک یہ ہے کہ جنازہ پر سلام عام نماز کے سلام کى طرح ہوتا تھا۔" ([3])
اس روایت میں "سلام عام نماز کى طرح" کى بنا پر بعض اہل علم نے دو سلام کو ترجیح دى ہے۔
ترجیح:
ابن المنذر رحمہ اللہ نے ایک سلام کو ترجیح دى ہے کیونکہ صحابہ کرام رضى اللہ عنہم کے آثار اس پر دلالت کرتے ہیں۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس مسئلہ میں سختى کرنا مناسب نہیں۔ جو ایک سلام پھیرے وہ درست ہے اور جو دو سلام پھیرے اس کى بھى دلیل موجود ہے۔
واللہ اعلم

