سوال
بال میں کالا (خضاب ) یا کلر کرنا کیسا ہے؟
جواب
جواب مختصر
اس موضوع میں یہ بات زیادہ مناسب اور درست نظر آتى ہے کہ کالا خضاب لگانا مکروہ ہے۔عام حالات میں اس سے بچنا چاہئے۔ حدیث میں اس بارے میں ممانعت حرمت پر دلالت نہیں کرتی۔ اسلاف امت کا فہم وعمل یہی بتاتا ہے۔
نیز یہ بھی جان لیں کہ صحابہ کی ایک جماعت نے اپنے بالوں کو کالے رنگ میں رنگے تھے جن میں حسن، الحسین، سعد بن ابی وقاص اور بہت سے تابعین شامل ہیں۔ لیکن بعض لوگوں نے دھوکہ دہی کی وجہ سے اسے ناپسند کیا، اوراگر دھوکہ دینا مقصد نہ ہو تو کوئى بھى اس کے حرام ہونے کا قائل نہیں، البتہ بہتر اور افضل یہ ہے کہ برگنڈی کلر لگایا جائے جو کہ کالے اور سرخ سے ملتا جلتا ہے ، تاکہ کسی قسم کا شبہہ نا رہ جائے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
بالوں کو کالےخضاب سے رنگنا یا کلر کرنے کے مسئلہ میں علماء کے دو رائے ہیں۔ بعض اسے حرام کہتے ہیں۔ بعض مکروہ قرار دیتے ہیں۔
جو اسے حرام قرار دیتے ہیں ان کى دلیل یہ کہ:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کےدن حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو ان کا سر ثغامہ بوٹی کے پھولوں کی طرح سفید تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَلْيُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ، وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ " ([1])۔
ترجمہ: ’’انہیں ان کی عورتوں میں سے کسی کے پاس لے جاؤ جو ان کےبالوں کو کسی چیز سے رنگ دیں لیکن کالے رنگ سے اجتناب کرنا ۔‘‘
جو علماء تحریم کے قائل ہیں ان کے نزدیک یہ حدیث کالا خضاب لگانے کى حرمت پر دلالت کرتى ہے۔
البتہ جو علماء کالا خضاب لگانے کو مکروہ قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک یہ حدیث تحریم پر دلالت نہیں کرتى کیونکہ:
1- اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ کالا خضاب لگانا حرام نہیں ہے۔
اس سلسلے میں امام قرطبى رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"لم نسمعْ أنَّ أحدًا مِن العلماءِ قال بتحريمِ ذلك".([2])۔
" ہم نے یہ نہیں سنا کہ علماء میں سے کسی نے یہ کہا ہو کہ یہ حرام ہے" ۔
ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"واعلم أنَّه قد خضب جماعةٌ مِن الصحابةِ بالسوادِ، منهم الحسنُ والحسينُ وسعدُ بنُ أبى وقاصٍ وخلقٌ كثيرٌ مِن التابعين، وإنَّما كرِهه قومٌ لما فيه مِن التدليسِ، فأمَّا أن يرتقِيَ إلى درجةِ التحريمِ، إذ لم يدلس...فلم يقلْ بذلك أحدٌ". ([3])۔
"اور جان لیں کہ صحابہ کی ایک جماعت نے اپنے بالوں کو کالے رنگ میں رنگے تھے جن میں حسن، الحسین، سعد بن ابی وقاص اور بہت سے تابعین شامل ہیں۔ لیکن بعض لوگوں نے دھوکہ دہی کی وجہ سے اسے ناپسند کیا۔ اگر دھوکہ دینا مقصد نہ ہو تو کوئى بھى اس کے حرام ہونے کا قائل نہیں"۔
2- متعدد صحابہ کرام سے منقول ہے کہ وہ کالا خضاب لگاتے تھے۔ اس سلسلے میں ابن القیم رحمہ اللہ اپنى کتاب (زاد المعاد) میں جو فرمایا ہے ہم اسے مختصر نیچے ذکر کر رہے ہیں:
(حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے صحیح سند سے ثابت ہے کہ وہ بالوں کو کالا خضاب لگاتے تھے۔ ابن جریر نے اپنى کتاب (تہذیب الآثار) میں ان دونوں سے نقل کیا ہے۔ نیز حضرت عثمان بن عفان، حضرت عبد اللہ بن جعفر، سعد بن ابى وقاص، عقبہ بن عامر سمیت کئى تابعین سے بھى یہى منقول ہے جن میں عمرو بن عثمان اور على بن عبد اللہ بن عباس اور زہرى وغیرہ شامل ہیں) ([4])۔
غور طلب ہے کہ اگر کالا خضاب لگانا حرام ہوتا تو یہ صحابہ کرام اور تابعین عظام ایسا نہ کرتے۔ اور ایسا کرنے کى وجہ سے لوگ ان پر اعتراض کرتے لیکن کہیں یہ ثابت نہیں کہ لوگوں نے ان پر اعتراض کیا ہو۔
3- جمہور فقہاء احناف ، مالکیہ اور حنابلہ اس کے مکروہ ہونے کے قائل ہیں۔ اور بعض سلف سے بھى یہى منقول ہے۔ ([5])۔
مندرجہ بالا تفصیل کى روشنى میں یہ بات زیادہ مناسب اور درست نظر آتى ہے کہ کالا خضاب لگانا مکروہ ہے۔عام حالات میں اس سے بچنا چاہئے۔ حدیث میں اس بارے میں ممانعت حرمت پر دلالت نہیں کرتی۔ اسلاف امت کا فہم وعمل یہی بتاتا ہے۔
واللہ اعلم

