سوال
: بھائی کو اس کی شادی کے اخراجات کے لیے زکاۃ دینے کا کیا حکم ہے، اگر اس کے پاس کوئی ذریعہ آمدنی نہ ہو؟
جواب
جواب مختصر
زکاۃ فقراء و مساکین وغیرہ کا حق ہے۔ اگر حقیقی بھائی کے پاس کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے، تو وہ فقیر و مسکین میں شامل ہے۔اور اگر وہ عفت و پاک دامنی کی خاطر نکاح کا خواہاں ہے، تو اسے شادی کے ضروری اخراجات کیلئے زکوۃ کا مال دیا جا سکتا ہے، بلکہ اسے زکاۃ دینے سے دوہرا اجر ہوگا ، ایک عام صدقہ کا اور دوسرا قریبی رشتہ دار کے خیال کرنے کا ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
زکاۃ ہر مالک نصاب پر فرض ہے،اسے ادا نہ کرنے کی صورت میں قرآن و صحیح احادیث میں سخت وعید وارد ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ " التَّوۡبَة : 34
ترجمہ: اور جو لوگ سونا چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے۔
زکاۃ فقراء و مساکین وغیرہ کا حق ہے۔ اگر حقیقی بھائی کے پاس کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے، تو وہ فقیر و مسکین میں شامل ہے۔اور اگر وہ عفت و پاک دامنی کی خاطر نکاح کا خواہاں ہے، تو اسے شادی کے ضروری اخراجات کیلئے زکوۃ کا مال دیا جا سکتا ہے۔
قرآن مجید اسى کى طرف ہدایت ورہنمائى فرماتا ہے۔ تفصیل درج ذیل ہے۔
1- شریعت اسلامیہ میں شادی،نکاح ایک مسنون اور مبارک عمل ہے، جس کی کتاب وسنت میں بڑی فضیلت آئی ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَأَنكِحُواْ ٱلۡأَيَٰمَىٰ مِنكُمۡ وَٱلصَّٰلِحِينَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَإِمَآئِكُمۡۚ إِن يَكُونُواْ فُقَرَآءَ يُغۡنِهِمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ " النُّور : 32
ترجمہ: 'اور تم میں جو مرد و عورت بلا نکاح کے ہیں ان کی شادی کردو،نیز اپنے نیک ایماندار غلاموں اور لونڈیوں کی بھی شادی کردو، اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انھیں مالدار کر دے گا،اور اللہ بڑی کشادگی والا،خوب جاننے والا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے شادی کرانے کا حکم دیا ہے، اور اسے خیر و برکت کا ذریعہ بھی بتا دیا ہے۔
2- فرمان الہی ہے: وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ" المَائـِدَة :2
ترجمہ: "نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اور گناہ و زیادتی میں کسی کا بھی ساتھ نہ دو"۔
متعدد علمائے اہل حدیث کے فتاوى بھى اس سلسلے میں موجود ہیں:
1- فتاوٰی اسلامیہ میں ہے: "کہ کوئی مرد یا عورت اپنے فقیربھائی،بہن،چچا،پھوپھی یا کسی دوسرے فقیر رشتہ دار کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔
2- دلائل سے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُنھیں زکوٰۃ دینا بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔" ([1])۔
3- فتاویٰ علماء حدیث میں ہے:" حقیقی بھائی بہن غریب ہوں، تو وہ زکوۃ کے حق دار ہیں" ([2])۔
چنانچہ شادی میں عفت و پاکدامنی،نظر اور شرمگاہ کی حفاظت ہے، جوکہ دین اسلام میں محبوب عمل ہے،اس لئے بھائی کی شادی کے لیے زکوۃ پیش کرنا التعاون على البر (بھلائى کے کاموں میں مدد کرنے)کے قبیل سے ہوگا۔
واللہ اعلم

