سوال
غیر مسلموں(کفار و مشرکین) کے تہواروں میں شرکت اور ان کے تحفے قبول کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
مسلمان کے لئے کفار و مشرکین کے میلوں،تہواروں اور ان کی تقاریب و خوشی کے دنوں میں شریک ہونا ،اُنہیں مبارکباد دینا ،تحائف کا تبادلہ کرنا،بالاتفاق حرام ہے۔
کفار و مشرکین کی عیدوں میں شرکت گویا دین الہی میں نرمی سے کام لینا،ان کے لئے نفسیاتی قوت اور دینی فخر کا باعث بننا اور ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے، جس پر بڑی وعید آئی ہے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ" ( )۔
راوی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اُنہیں میں سے ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ چلتے پھرتے غیر مسلم کو گالی دیں ، فحش گوئی و بداخلاقی کا مظاہرہ کریں ، ظلم و نا انصافی سے کام لیں ، بلکہ دین کے معاملات میں تساہل نا برتیں اور رہا حقوق تو اس کی ادائیگی ہر کسی کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے کا حق دے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اس سوال کے دو حصے ہیں۔ ایک غیر مسلموں کے تہواروں میں شریک ہونا۔ دوسرا: اس موقع سے ان کے تحائف قبول کرنا۔
اول:غیر مسلموں کے تہواروں میں شریک ہونے کا حکم:
دینِ اسلام میں عیدالفطر و عید الاضحیٰ کے علاوہ کوئی عید نہیں ہے،صحیح حدیث میں جمعہ کے دن کو بھی ہفتہ کی عید کہا گیا ہے،ان کے علاوہ کوئی بھی عید،جشن،تہوار اسلام میں حرام ہے۔
مسلمان کے لئے کفار و مشرکین کے میلوں،تہواروں اور ان کی تقاریب و خوشی کے دنوں میں شریک ہونا ،اُنہیں مبارکباد دینا ،تحائف کا تبادلہ کرنا،بالاتفاق حرام ہے۔
مندرجہ ذیل سطروں میں اس کى دلیلیں ملاحظہ فرمائیں:
1- کفار و مشرکین کی عیدوں میں شرکت گویا دین الہی میں نرمی سے کام لینا،ان کے لئے نفسیاتی قوت اور دینی فخر کا باعث بننا اور ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے، جس پر بڑی وعید آئی ہے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ" ( )۔
راوی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اُنہیں میں سے ہے۔
2- غیر مسلموں یا کفار کے تہوار میں شریک ہونا گویا ان سے محبت ومودت ظاہر کرنا ہے۔ اور مسلمانوں کو اس سے سختى سے منع کیا گیا ہے۔فرمان الہٰی ہے:
" يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُواْ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلۡحَقِّ " المُمۡتَحنَة : 1
ترجمہ: اے ایمان والو! تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ،تم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہو حالانکہ وہ اس دین برحق کا انکار کرتے ہیں جو تمہیں ملا ہے۔
3- کفار ومشرکین کے تہواروں میں شرکت کرنا مومنانہ روش کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ نےمومنوں کى صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَٱلَّذِينَ لَا يَشۡهَدُونَ ٱلزُّورَ الفُرۡقَان : 72
ترجمہ: مومن وہ ہیں جو جھوٹ کى محفلوں میں شرکت نہیں کرتے۔
اس کی تفسیر میں متعدد سلف صالحین نے کہا ہے کہ یہاں (زُوْر) سے مراد کفار کے تہوار اور ان کی مجلسیں ہیں۔ ( )۔
4- حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ کی حدیث جس میں ذکر ہے کہ ایک آدمی نے نبیؐ کے زمانے میں یہ نذر مانی کہ وہ مقام 'بوانہ' میں اونٹ ذبح کرے گا، تو نبی ﷺ نے اس سے ایک استفسار یہ بھی کیا "فهل كان فيها عيد من أعيادهم۔۔۔۔۔؟" ( )۔
کیا وہاں پر کوئی ان کا تہوار تو نہیں لگتا تھا؟ اس نے کہا: 'نہیں' تو آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اپنی نذر پوری کرو۔
چنانچہ کفار و مشرکین کے عید و تہوار والی جگہ پر اللہ کیلئے ذبح کرنا معصیت ہے تو بنفسِ نفیس شریک ہونا کتنا بڑا گناہ ہوگا؟
5- امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "عجمیوں کی زبان مت سیکھو، اور مشرکوں کے عبادت خانوں میں ان کے تہوار کے دن مت جاؤ، کیونکہ ان پر اللہ کی ناراضگی نازل ہوتی ہے۔ ( )۔
فتاویٰ نذیریہ ص 275 میں ہےکہ ہنود کے میلوں میں جانا منع ہے،ہرگز شامل نہیں ہونا چاہیے،خواہ بغرض تجارت ہی کیوں نہ ہو،بلکہ اس قسم کے تمام منکرات کو ہاتھ اور زبان سے مٹانا چاہیے،اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دل سے ضرور برا جاننا چاہیے۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کوئی بھی مسلمان شخص جو کفار و مشرکین کے میلوں،تہواروں اور ان کی تقاریب و خوشی کے دنوں میں شریک ہوتا ہے،اُنھیں مبارکباد دیتا ہے،تحائف کا تبادلہ کرتا ہے،تو یہ باِتفاق علماء حرام ہے، اور یہی ائمہ اربعہ کا بھی مذہب ہے.( )۔
دوم: کفار و مشرکین کے تہواروں کے موقع پر ان سے تحائف قبول کرنا؟
عام طور پر غیر مسلمین سے تالیف قلب، اور اسلام کی طرف راغب کرنے کیلئے تحفہ لیا جا سکتا ہے، جیسے نبی ﷺ نے کچھ کفار مثلاً: مقوقس وغیرہ سے تحائف قبول فرمائے تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں ایک باب ہی اس عنوان سے قائم کیا ہے۔ باب: "قبول الهدية من المشركين"۔ اور اس ضمن میں متعدد ایسی احادیث ذکر کی ہے جن میں صاف طور پر یہ بیان ہے کہ آپ ﷺ نے کفار ومشرکین کا تحفہ و ہدیہ قبول کیا ہے۔
ان میں سے بعض احادیث درج ذیل ہیں:
1-عن ابی هريرة رضي الله عنه قال: أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّﷺ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ. ( )۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیؐ کو ایک یہودی عورت کی طرف سے زہر آلود بکری پیش کی گئی۔
2- وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ ﷺبَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ بُرْدًا، وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ. ( )۔
ابو حمید کہتے ہیں کہ:" نبیؐ کو ایلہ کے بادشاہ نے سفید مؤنث خچر اور ایک کپڑے کا جوڑا تحفے میں دیا،ساتھ میں آپ کو اپنے علاقے کا سربراہ مقرر کیا"
3- عن أنس رضي الله عنه قال:"أهدي للنبي ﷺجبة سندس" ( )۔
نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دبیز قسم کے ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ اور یہ تحفہ دومۃ الجندل کے حاکم اکیدر نے نبیؐ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ ( )۔
البتہ یہ واضح رہے کہ غیرمسلموں کے تیوہار کے مواقع پر ان کے تحائف قبول کرنے سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جو بھی روایات ملتی ہیں ان میں سے کوئی بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ہیں۔
مذکورہ بالا بحوث کا خلاصہ یہ کہ کسی بھی مسلمان شخص کیلے کفار و مشرکین کے تہواروں میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ ان کے تحفے تحائف قبول کیے جا سکتے ہیں، لیکن ان کے تہواروں کے دنوں میں قبول نہیں کئے جائیں گے۔ بلکہ انھیں بہتر اور عمدہ انداز میں سمجھایا جائے کہ ہمارے دین میں یہ جائز نہیں ہے،اور آپ کی عید میں ایسے نظریات پائے جاتے ہیں جو ہمارے ہاں درست نہیں یعنی اس انداز سے بات کی جائے کہ وہ اسلام کا پیغام سمجھ سکیں۔
واللہ اعلم
(1 ) سنن ابوداؤد،كِتَاب اللِّبَاسُ،حدیث نمبر 4031۔
( 2) سنن ابوداؤد،كِتَاب اللِّبَاسُ،حدیث نمبر 4031۔
(3 ) تفسیر ابن کثیر، 6 /130۔
( 4) سنن ابوداؤد،كِتَاب الأيمان والنذور،حدیث نمبر 3313۔
( 5) مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر 9061۔
( 6) اقتضاء الصراط المستقیم، ابن تیمیہ، 2/10۔
(7 ) صحیح بخارى، باب قبول الہدیۃ من المشركين۔
(8 ) صحیح بخارى، باب قبول الہدیۃ من المشركين۔
( 9) صحیح بخارى، حدیث نمبر 2615۔
(10 ) مزید تفصیل اور شرح کے لئے دیکھیں: عمدة القاري شرح صحيح البخاري،13/167۔

