سوال
مسجد میں شعر پڑھنے کا حکم؟
جواب
جواب مختصر
وہ اشعار جن میں عقیدہ توحید، اتباع سنت، جہاد فی سبیل اللہ نیز اسلامی شعائر کی مدح یا عظمت رب و قرآن مجید بیان کئے گئے ہوں، تو انھیں مساجد میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ شرک و بدعات و معصیت پر مبنی اشعار مسجد میں پڑھنا جائز نہیں، یہ صوفیوں کا طریقہ ہے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
ایسے اشعار جن میں توحید و سنت اور اسلام کى عظمت بیان کى گئى ہو، یا وہ دینى تعلیم کے لئے سکھائے جائیں، تو انہیں پڑھنے میں کوئى حرج نہیں۔
خیال رہے کہ شعر پڑھنے سے نمازیوں کى عبادت اور ذکر و اذکار کى ادائیگى میں خلل نہ آتا ہو۔
اس سلسلے میں یہ واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
عُمَر رضي الله عنه مَرَّ بِحَسَّانَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَنْشُدُ، وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ. ([1])
ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف گھور کر دیکھا۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مسجد میں تب شعر پڑھا کرتا تھا جب کہ مسجد میں وہ ذات گرامی موجود ہوتی تھی جو تم سے افضل تھی، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
اس حدیث سے پتہ چلا کہ مسجد میں صحیح مقصد کے لئے صحیح اشعار پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ ایسے اشعار نہ ہوں جو توحید و سنت کے خلاف ہوں یا شرک و بدعت پر دلالت کرتے ہوں۔
واللہ اعلم

