سوال
کیا مسجد نبوى میں ریاض الجنہ کى کوئى خصوصیت ہے؟
جواب
جواب مختصر
روضہ مسجد نبوى میں سب سےافضل حصہ ہےکیونکہ اس کے بارے میں نبى ﷺسے خصوصیت وارد ہے۔ اس لئے روضہ میں زیادہ سے زیادہ نفل نماز ادا کرنا مستحب ہے، رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے۔ "جو میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے " اس جگہ میں عبادت کرنا جنت کی طرف لے جاتا ہے۔اس کے ظاہرى معنى کے لحاظ سے یہ حقیقت میں جنت کا حصہ ہے۔ اور آخرت میں اسے ہى جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اول: ریاض الجنہ کا اصل نام روضہ ہے،یہ وہ جگہ ہے جو رسول اللہ ﷺکے گھر اور آپ کے منبر کے درمیان واقع ہے۔
اس کی فضیلت کے بارے میں کئى احادیث وارد ہیں:
1- عبداللہ بن زید المزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
»مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الجَنَّةِ« ([1])۔
ترجمہ: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کى ایک کیارى ہے۔
2- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
»مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي« ([2])۔
ترجمه: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو کچھ ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
دوم: جنت کى کیارى کا مفہوم:
اس جگہ کے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہونے کے مطلب کے بارے میں علماء کےمتعدد آراء ہیں:
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "علماء نے اس کے معنی کے بارے میں دو قول ذکر کئے ہیں:
1- وہ خاص جگہ جنت میں منتقل کر دی جائے گی۔
2- اس جگہ میں عبادت کرنا جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ ([3])۔
حافظ ابن حجر رحمہ الله فرماتے ہیں کہ:
نبى ﷺ کے اس قول: "جنت کے باغوں میں سے ایک باغ"کا مطلب یہ ہے کہ:
1- وہ حصہ رحمت کے نزول اور ذکر الہى کے حلقہ میں شامل ہونے سے حاصل ہونے والى سعادت بالخصوص عہد رسالت میں جنت کے باغوں میں سے ایک باغ کى طرح ہے۔
2- اس جگہ میں عبادت کرنا جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ ([4])۔
3- یا اس کے ظاہرى معنى کے لحاظ سے یہ حقیقت میں جنت کا حصہ ہے۔ اور آخرت میں اسے ہى جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔
سوم: مذکورہ احادیث سے روضہ میں نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اس سے روضہ کى ایک خاص فضیلت کاپتہ چلتا ہے۔ اس کى تاکید اس بات سے بھى ہوتى ہے کہ رسول اللہ ﷺاس میں موجود ایک ستون کے پاس نماز ادا کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔
یزید بن ابی عبید سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا:
كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رضی اللہ عنہ، فَيُصَلِّي عِنْدَ الأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ المُصْحَفِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ، أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدَ هَذِهِ الأُسْطُوَانَةِ".قَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدَهَا"([5])۔
ترجمہ: یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ آتا اوروہ مصحف والے ستون کے پاس یعنی روضہ میں آ کرنماز ادا کرتے ، تومیں نے ان سے پوچھا : اے ابومسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں ! تووہ فرمانے لگے: میں نے رسول کریم ﷺکودیکھا ہےکہ آپ بھی یہاں خاص کرنماز ادا کیا کرتے تھے ۔
مسجد نبوى کے روضہ والے حصہ میں متعدد ستون ہیں۔ ان میں سے دو ستونوں سے متعلق کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ وہاں نماز ادا کیا کرتے تھے۔
نمبر ایک : ستون عائشہ اسے ستون مخلقہ بھى کہتے ہیں۔کہا جاتا ہے پہلے آپ ﷺ یہیں کھڑے ہوکر امامت فرمایا کرتے تھے۔
دوسرا: ستون توبہ جس سے حضرت لبابہ نے اپنے آپ کوباندھا تھا اور اللہ نے ان کى توبہ قبول فرمائى تھى۔ عمر مولى غفرہ اور محمد بن کعب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زیادہ تر نفلی نمازیں وہیں ادا کی جاتی تھیں۔ ([6])۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ہمارے بعض مشائخ ستون عائشہ سے متعلق فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتى تھیں کہ ”اگر لوگوں کو اس کا علم ہوتا تو وہ قرعہ اندازى کرکے وہاں نماز ادا کرتے“۔
انہوں نے ابن زبیر کو اس بارے میں بتا دیا تھا۔ اس لئے وہ وہاں اکثر نماز ادا کرتے تھے۔ ([7]).
مذكوره اقوال كى بنا پر کئى اہل علم نے روضہ میں زیادہ نماز ادا کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" ويستحب أن يكثر من صلاة النافلة في الروضة الشريفة؛ لما سبق من الحديث الصحيح في فضلها، وهو قول النبي ﷺ ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة" ([8]).
ترجمہ: "روضہ میں زیادہ سے زیادہ نفل نماز ادا کرنا مستحب ہے،کیونکہ اس کی فضیلت کے بارے میں پہلے صحیح حدیث بیان ہو ئى ہے، رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے۔ "جو میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے "
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"وينبغي أن يتحرى الصلاة في الروضة إن تيسر له من أجل فضيلتها" ([9]).
ترجمہ: "اگر ممکن ہو تو روضہ میں نماز پڑھنے کی کوشش کریں، اس کے بارے میں واردفضائل کى بنا پر۔
واضح ہوکہ اگر روضہ کى فضیلت ذکر کرنا نہ ہوتا تو آپ ﷺ خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر ہى نہ فرماتے۔
مندرجہ بالا کلام سے پتہ چلتا ہے کہ روضہ مسجد نبوى میں سب سےافضل حصہ ہےکیونکہ اس کے بارے میں نبى ﷺسے خصوصیت وارد ہے۔
واللہ اعلم

