سوال
مسبوق کیلئے دعاء استفتاح (ثناء) پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
نمازی پر سورہ فاتحہ کی قرأت چونکہ واجب ہے اور " دعاء ثنا ء' پڑھنا مسنون ہے۔ لہذا صرف سورہ فاتحہ کی قرأت کا اہتمام ہونا چاہیے، البتہ مقتدی اگر یہ سمجھتا ہے کہ دعاء استفتاح یا ثناء کے بعد امام کے رکوع میں جانے سے پہلے 'فاتحہ' پڑھ سکتا ہے تو دعاء ثناء پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
جمہور علماء کرام کے نزدیک دعاء استفتاح سنت ہے اور سورۃ فاتحۃ پڑھنا واجب ہے۔اس کى تلاوت کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتى۔ نبى ﷺ فرماتے ہیں:
«لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» ([1])۔
ترجمہ: اس شخص کى نماز کامل نہیں جو سورۃ الفاتحۃ نہ پڑھے۔
اگر مسبوق (بعد میں آنے والا نمازى)پہلی رکعت میں امام کى قراءت ختم ہوتے وقت جماعت میں شامل ہو اور امام کے فورا رکوع میں چلے جانے کا اندیشہ ہو تو وہ صرف سورہ فاتحہ ہی پڑھے گا اس لیے کہ نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے،اور اس کے بغیر نماز ہی صحیح نہیں ہوگی۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مسبوق حالت قیام میں پہنچتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ دعاء استفتاح،تعوذ اور سورہ فاتحہ پڑھ سکتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ضرور پڑھے، بلکہ اس سلسلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کی مشہور و معروف کتاب "الاُمّ" میں صریح نص موجود ہے،اور اگر مسبوق یہ سمجھتا ہے کہ تعوذ و فاتحہ کے ساتھ مکمل دعاء استفتاح پڑھنا اس کیلئے مشکل ہو جائے گا، تو جس قدر بھی ممکن ہو وہ پڑھ لے۔ ([2])۔
شیخ الحدیث مولانا ثناء اللہ مدنی رحمہ اللہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ نمازی پر سورہ فاتحہ کی قرأت چونکہ ضروری ہے اور 'سبحانک اللھم' پڑھنا مسنون ہے۔ لہذا صرف فاتحہ کی قرأت کا اہتمام ہونا چاہیے، ہاں البتہ مقتدی اگر یہ سمجھتا ہے کہ دعاء استفتاح یا ثناء کے بعد امام کے رکوع میں جانے سے پہلے 'فاتحہ' پڑھ سکتا ہے تو ثناء بھی پڑھ سکتا ہے اور 'سورہ فاتحہ' کے علاوہ دوسری سورت بھی ملا سکتا ہے۔ ([3])۔
واللہ اعلم

