سوال
اگر ماں بیمار ہو یا جسمانی طور پر کمزور ہو، یا گھر تنگ ہو، یا پہلا بچہ بہت چھوٹا ہو تو کیا بچوں کى پیدائش کے درمیان فاصلہ رکھنے کے لئے مانع حمل (پیدائش پر قابو پانے کی )گولیوں کا استعمال جائز ہے؟
جواب
جواب مختصر
اختصار:
ٍحمل کے درمیان وقفے کی نیت سے یا ایک خاص مدت کے لئے حمل کوروکنے کی نیت سے بچہ پیدا کرنے پر عارضی کنٹرول جائز ہے، اگر شریعت کی رو سے اس کی جائز ضرورت ہو، میاں بیوی کی مشاورت اور باہمی رضامندی سے تشخیص کے مطابق، بشرطیکہ موجودہ حمل کو اس سے نقصان نہ ہو۔"
اس صورت میں احتیاط کا تقاضا یہ بھى ہے کہ شوہرانزال کے وقت عزل کر سکتا ہے یا کوئی ایسی چیز استعمال کر سکتا ہے جو مانع حمل ہو اور اس سے صحت کو نقصان نہ ہو لیکن اس سلسلے میں قابل اعتماد ڈاکٹرس سے مشورہ بھى ضرورى ہے۔
يہ احتياطى تدبيريں نطفہ کو رحم مادر میں جانے سے پہلے روکنے کے لئے ہوں تو جائز ہیں۔ اگر نطفہ رحم مادر میں چلا گیا اور حمل ٹھہر گیا تو متعدد علماء کے نزدیک ایسى دوائیوں کا استعمال ناجائز ہوگا جو اسقاط حمل کا سبب بنیں۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
تفصل:
اگر بھروسہ مند ڈاکٹر مشورہ دیں کہ حمل اور ولادت سے ماں کی صحت کو نقصان پہنچے گا تو پیدائش میں تاخیر جائز ہے جب تک کہ یہ علت اور سبب دور نہ ہو جائے۔اس کى مندرجہ ذیل دلیلیں ہیں:
اللہ تعالى کا ارشاد ہے:
وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيمٗا ([1])
ترجمہ: اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ بلاشبہ اللہ تم پر نہایت مہربان ہے۔
اللہ تعالى کا فرمان:
وَلَا تُلۡقُواْ بِأَيۡدِيكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ ([2])
ترجمہ: اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
خودضرر (نقصان )میں پڑنا اور دوسروں کو ضرر میں ڈالنا ، دونوں اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہیں، حضرت عبادہ بن صامت رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:
»لا ضررَ ولا ضِرارَ« ۔([3])
ترجمہ: اسلام میں نہ خود کو ضرر دیناہے، نہ دوسرے کو ضرر پہنچانا۔
بچوں کى صحت اورپرورش کا خیال رکھتے ہوئے ان کى پیدائش کے درمیان فاصلہ رکھنے میں کوئى حرج نہیں۔ اس کى وضاحت ایک حدیث سے ہوتى ہے۔ حضرت اسامہ بن زید رضى اللہ عنہما سے روایت ہے:
« أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أُشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا أَوْ عَلَى أَوْلَادِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: لَوْ كَانَ ذَلِكَ ضَارًّا، ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ» ([4])۔
ترجمہ: ایک آدمی رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں اپنی بیوی سے عزل([5]) کرتا ہوں، تو رسول اللہﷺنے پوچھا: "تم ایسا کیوں کرتے ہو؟" اس نے جواب دیا: میں اس کے بچے یا اس کے بچوں پرجنہیں وہ دودھ پلا رہی ہوتی ہے شفقت کرتا ہوں کہ انہیں کوئی نقصان نہ ہو۔ تو رسول اللہﷺنے فرمایا: "اگر یہ نقصان دہ ہوتا تو فارس اور روم کے بچوں کو نقصان دیتا۔
عالم اسلام كےمعتبر ادارہ (عالمى اسلامى فقہ اکیڈمى جده) کى قرار داد بھى اس مسئلہ کى وضاحت کرتى ہے۔
" يجوز التحكم المؤقت في الإنجاب بقصد المباعدة بين فترات الحمل، أو إيقافه لمدة معينة من الزمان، إذا دعت إليه حاجة معتبرة شرعًا، بحسب تقدير الزوجين عن تشاور بينهما وتراض، بشرط أن لا يترتب على ذلك ضرر، وأن تكون الوسيلة مشروعة، وأن لا يكون فيها عدوان على حمل قائم." ([6])۔
ترجمہ: "حمل کے درمیان وقفے کی نیت سے یا ایک خاص مدت کے لئے حمل کوروکنے کی نیت سے بچہ پیدا کرنے پر عارضی کنٹرول میاں بیوی کے اندازے و باہمی مشاورت اور رضامندی سے اگر شرعی نقطئہ نظر سے وہ عذر مقبول ہے تو جائز ہے ، بشرطیکہ موجودہ حمل کو اس سے نقصان نہ ہو۔"
اس صورت میں احتیاط کا تقاضا یہ بھى ہے کہ شوہرانزال کے وقت عزل کر سکتا ہے یا کوئی ایسی چیز استعمال کر سکتا ہے جو مانع حمل ہو اور اس سے صحت کو نقصان نہ ہو لیکن اس سلسلے میں قابل اعتماد ڈاکٹر سے مشورہ بھى ضرورى ہے۔
يہ احتياطى تدبيريں نطفہ کو رحم مادر میں جانے سے پہلے روکنے کے لئے ہوں تو جائز ہیں۔ اگر نطفہ رحم مادر میں چلا گیا اور حمل ٹھہر گیا تو متعدد علماء کے نزدیک ایسى دوائیوں کا استعمال ناجائز ہوگا جو اسقاط حمل کا سبب بنیں۔واللہ اعلم

