سوال
کیا دفن کے بعد میت کو تلقین کرنا جائز ہے یا یہ بدعت ہے؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اختصار:
دفن کے بعد میت کو تلقین کرنا (یعنى قبر میں دفن کے بعد کھڑے ہو کر میت کو کلمہ شہادت یاد دلانا) بدعت ہے اور اس کى کوئى صحیح دلیل نہیں۔ اس عمل کى تائید میں جو حدیث پیش کى جاتى ہے وہ موضوع (گھڑى ہوئى) ہے۔ اور جس حدیث میں "موتى" کو تلقین کرنے کى بات ہے وہ دفن کے بعد نہیں بلکہ موت کى حالت میں تلقین کى بات ہے۔ قبر پر جانے کا مسنون عمل میت کے لئے مغفرت اور ثابت قدمى کى دعا کرنا ہے۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
تلقین بعد از دفن سے مراد یہ ہے کہ میت کو قبر میں دفن کر دینے کے بعد کوئى شخص قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر کہے: "اے فلاں! یاد کر جو تو دنیا سے لے کر آیا ہے: لا إلہ إلا اللہ۔"
تلقین کى دلیل اور اس کا جائزہ:
اس تلقین کى دلیل کے طور پر حضرت ابو امامہ رضى اللہ عنہ کى روایت پیش کى جاتى ہے جس میں انہوں نے اپنے انتقال کے بعد تلقین کرنے کى وصیت کى۔
لیکن اس روایت کى سند میں عتبہ بن سکن ہیں جن کے بارے میں:
- امام دارقطنى رحمہ اللہ نے کہا: متروک (جس کى روایت چھوڑ دى گئى ہو)
- امام بیہقى رحمہ اللہ نے کہا: واہى (نہایت کمزور)
اس لئے یہ روایت موضوع (گھڑى ہوئى) ہے اور اس سے استدلال کرنا درست نہیں۔ ([1])
"لقنوا موتاکم" حدیث کا صحیح مفہوم:
بعض لوگ یہ حدیث پیش کرتے ہیں:
«لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»
"اپنے مرنے والوں کو لا إلہ إلا اللہ کى تلقین کرو۔"
اس حدیث میں "موتى" سے مراد وہ لوگ نہیں جو دفن ہو چکے ہوں بلکہ وہ ہیں جو موت کى حالت (سکرات الموت) میں ہوں۔ یعنى کسى کى جان نکلنے کے وقت اسے کلمہ پڑھنے کى تلقین کى جائے تاکہ آخرى کلام کلمہ ہو۔
امام نووى رحمہ اللہ نے اس کى صراحت کى ہے کہ یہ حدیث دفن کے بعد کى تلقین پر نہیں بلکہ موت سے قبل کى تلقین پر دلالت کرتى ہے۔ ([2])
علماء کا موقف:
متعدد جلیل القدر علماء نے دفن کے بعد تلقین کو بدعت قرار دیا ہے:
- عز الدین ابن عبد السلام رحمہ اللہ
- ابن قدامہ رحمہ اللہ
- ابن القیم رحمہ اللہ — فرمایا: نبى ﷺ نے نہ تو کبھى قبر پر قراءت کى اور نہ ہى میت کو اس کا عہد یاد دلایا، اور نہ ایسا کرنے کا حکم دیا
- شمس الحق عظیم آبادى رحمہ اللہ
- شیخ البانى رحمہ اللہ
قبر پر مسنون عمل:
قبر پر جانے کا جو عمل نبى ﷺ سے ثابت ہے وہ دعا اور استغفار ہے، تلقین نہیں۔ حضرت عثمان بن عفان رضى اللہ عنہ سے مروى ہے:
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ وَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ وَاسْأَلُوا لَهُ التَّثْبِيتَ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ
"نبى ﷺ جب میت کو دفن فرماتے تو قبر کے پاس کھڑے ہو کر فرماتے: اپنے بھائى کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے ثابت قدمى کى دعا کرو کیونکہ ابھى اس سے سوال ہو رہا ہے۔" ([3])
واللہ اعلم

