سوال
ہمارے یہاں روم دلانے والے دلال کرائے دار اور مالک مکان سے ہر سال ایک مہینے کا کرایہ بطور کمیشن وصول کرتے ہیں ،تو کیا اس طرح ان کا ہر سال کرایہ وصول کرنا جائز ہے؟
جواب
جواب مختصر
اگر دلال پہلے سے مکان مالک اور کرائے دار دونوں سے طے کرلے کہ وہ ہر سال ایک ماہ کا کرایہ لے گا یا جتنا عُرف میں مشہور ہو ، ایک پرسنٹ یا دو پرسنٹ سودا ہو جانے کے بعد لے گا ، اور وہ دونوں راضی ہوں تو اس کا لینا جائز ہے۔
البتہ دلال کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی قسم کی کوئی بات چھپائے اور خیانت کرے ، اسی طرح اس کا اَمین ہونا بہت ضروری ہے ، اور سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ دلال جس چیز کو دِلا رہا ہے اس کے صحیح و غلط ، اس کی خوبی و خامی کا مکمل علم رکھتا ہو تاکہ دونوں کو صحیح بات بتا سکے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
بائع اور مشتری (خریدنے اور بیچنے والے)كے درمیان عقد (اگریمنٹ)کو پورا کرنے کے لئے واسطہ یا ذریعہ بننے كو دلالى كہتے ہيں۔
دلال کے معنى راہنمائى کرنے والے کے ہوتے ہیں؛ وه خريدار كو سامان اور بیچنے والے كو قيمت كى راہنمائى كرتا ہے۔ ([1])۔
بہت سے علماء كرام نے دلالى کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔اور اس كى اجرت لينے کو جائز كہا ہے۔
امام مالك رحمہ اللہ تعالى سے دلال كى اجرت كے بارے ميں سوال كيا گيا تو انہوں نے جواب ديا:" اس ميں كوئى حرج نہيں"۔([2])۔
اور امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے اپنى کتاب صحيح بخارى کے اندر دلالی سے متعلق عنوان کے تحت صحابہ وتابعین کے اقوال ذکر کئے ہیں۔ فرماتے ہیں:
بَابُ أَجْرِ السَّمْسَرَةِ
وَلَمْ يَرَ ابْنُ سِيرِينَ وَعَطَاءٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَالْحَسَنُ بِأَجْرِ السِّمْسَارِ بَأْسًا.
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "لَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ بِعْ هَذَا الثَّوْبَ؛ فَمَا زَادَ عَلَى كَذَا وَكَذَا فَهُوَ لَكَ".
وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: "إِذَا قَالَ بِعْهُ بِكَذَا فَمَا كَانَ مِنْ رِبْحٍ فَهُوَ لَكَ أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ". ([3])۔
ترجمہ:
"ابن سيرين ، عطاء ، ابراہیم اور حسن رحمہم اللہ دلال كى اجرت ميں كوئى حرج نہيں سمجھتے تھے۔
اور ابن عباس رضى اللہ تعالى كہتے ہيں :ايسا كہنے ميں كوئى حرج نہيں: يہ كپڑا فروخت كرو، تو اتنى اتنى رقم سے زيادہ رقم آپ كى۔
اور ابن سيرين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:جب كوئى يہ كہے كہ: اسے اتنے ميں فروخت كريں، اور جو نفع ہو وہ آپ كا، يا نفع ميرے اور تيرے مابين، تو اس ميں كوئى حرج نہيں"۔
دکتور عبد الرحمن بن صالح الاطرم فرماتے ہیں:
" فإذا لم يكن شرط ولا عرف، فالظاهر أن يقال: إن الأجرة على من وسّطه منهما، فلو وسطه البائع في البيع كانت الأجرة عليه، ولو وسطه المشتري لزمته الأجرة، فإن وسطاه كانت بينهما" ([4])۔
اگر شرط اور عرف نہ ہو تو دلال کى اجرت اس شخص پر ہے جس نے دلال کو واسطہ بنایا ہے۔
اگر بائع (بیچنے والے)نے دلال کو واسطہ بنایا ہے تودلال کى اجرت اس پر ہے۔ اور اگر مشتری (خریدنے والے)نے بنایا تو اجرت اس پر ہے۔ اور اگر دونوں نے واسطہ بنایا ہے تو اجرت دونوں پر ہے۔ "
بہت سے لوگوں كو دلال كى ضرورت ہوتى ہے؛ کیونکہ وہ خريدو فروخت ميں بھاؤ كرنا نہيں جانتے، اور كچھ ايسے بھى ہيں جو خريدى جانے والى چيز كى پہچان نہيں كر سكتے ، اس كے عيوب نہيں جانتے۔ اور كچھ كے پاس خريدوفروخت كا وقت نہيں ہوتا۔ اس طرح دلالى ايك مفيد اور نفع بخش كام ہے، اس سے خریدنے اور بیچنے والےاور دلال سب فائدہ حاصل کرتے ہيں۔
آداب دلالى:
ذیل میں ہم دلالى کے چند آداب ذکر کر رہے ہیں تاکہ غلط اور ناجائز طریقوں سے نفع حاصل کرنے سے بچاجاسکے۔
1- دلال کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ایک طرف والے سے قیمت کے بڑھانے یا گھٹانے پر معاہدہ کرلے ، کیونکہ یہ غش اور خیانت ہے ۔
2- اسی طرح اگر وہ مشترى(خریدنے والے) کا وکیل ہے یا اس کے یہاں مزدوری کرتا ہے، یا بائع (بیچنے والے)کے پاس یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مشتری کا وکیل یا اس کا مزدور ہے ، یا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسے مشورہ دے رہا ہے اور اس کے لئے خیرخواہی کر رہا ہے تو اس کے لئے اجرت لینا جائز نہیں ہے۔
3- دلال كے ليے ضرورى ہے كہ جس چيز ميں وہ خريدار اور بائع كے مابين واسطہ بن رہا ہے اسے اس كا تجربہ اور علم ہو، تا كہ ان دونوں ميں سے كسى ايك كو بھى نقصان نہ ہو، كيونكہ اس كا دعوى ہوتا ہے كہ وہ اسے جانتا ہے حالانكہ وہ ايسا نہيں ہے۔
4- دلال كو صادق اور امين بھى ہونا چاہيے، كسى ايك كے حساب پر وہ دونوں ميں سے كسى ايك كى طرفداری نہ كرے، بلكہ اسے صدق اور امانت كے ساتھ چيز كے عيب اور اس كى خصوصيات بيان كرنے چاہيں، اور بائع يا مشترى كو دھوكہ نہیں دینا چائیے۔([5])۔
واللہ اعلم

