سوال
دودھ پلانے یا حالت حمل سے گزرنے والی عورت کے رمضان کے روزہ رکھنے سے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ اگر وہ روزہ نہ رکھ سکے تو فدیہ ادا کرے گى یا بعد میں روزوں کى قضاء کرے گى؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد
اختصار:
حالت حمل اور دودھ پلانے والى خواتین سے متعلق صحابہ کرام و فقہاء عظام کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ اگر اس طرح کى خواتین کو اپنے بچے سے متعلق نقصان کا خطرہ ہو تو وہ روزہ نہ رکھیں۔ ایسى خواتین صرف فدیہ دیں گى، ان پر قضاء لازم نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس رضى اللہ عنہما نے ایک حاملہ یا دودھ پلانے والى لونڈى کو دیکھا تو اس سے کہا کہ:
«أَنْتِ بِمَنْزِلَةِ الَّذِي لَا يُطِيقُهُ، عَلَيْكِ أَنْ تُطْعِمِي مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، وَلَا قَضَاءَ عَلَيْكِ» ([1])
"تمہارا شمار ان لوگوں میں سے ہے جنہیں روزہ رکھنے کى استطاعت نہیں، اس لئے تم ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دو، اور جو روزے چھوٹ جائیں ان کے قضاء کى ضرورت نہیں۔"
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
اسلام کى امتیازى خصوصیات میں ایک خصوصیت اس کى آسانیاں ہیں۔ دودھ پلانے والى خواتین یا حالت حمل سے گزرنے والى خواتین کے روزوں کا مسئلہ بھى اسلام میں یسر اور آسانى پر مبنى ہے۔
رمضان المبارک میں روزہ رکھنا ایک عظیم عبادت ہے اور ہر بالغ عاقل مرد و عورت مسلمان پر فرض ہے۔ البتہ مریض اور مسافر کیلئے رخصت اور آسانى ہے کہ وہ بعد میں قضاء کرلیں۔ اسى طرح حالت حمل اور دودھ پلانے والى خواتین سے متعلق صحابہ کرام کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ اگر انہیں اپنے بچے سے متعلق نقصان کا خطرہ ہو تو وہ روزہ نہ رکھیں۔
لیکن بعد میں کیا وہ فدیہ ادا کریں گى یا روزوں کى قضاء کریں گى؟ اس مسئلہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ دلائل کى روشنى میں یہ بات زیادہ حق کے قریب ہے کہ ایسى خواتین صرف فدیہ دیں گى، ان پر قضاء لازم نہیں ہے۔
اس قول کے قائلین صحابہ کرام میں حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضى اللہ عنہما ہیں، نیز سعید بن جبیر، سعید بن مسیب، قتادہ، عکرمہ، ابراہیم نخعى، امام مالک، نواب صدیق حسن خان بھوپالى اور علامہ البانى رحمہم اللہ شامل ہیں۔ ([2])
ان کى دلیل قرآن مجید کى سورۃ بقرۃ کى آیت (184) ہے:
وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدۡيَةٞ طَعَامُ مِسۡكِينٖۖ [البقرة: 184]
"اور جو نہایت مشقت سے روزہ رکھ سکیں وہ اس کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ دیں۔"
اس آیت کى تفسیر میں عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضى اللہ عنہما سے صحیح سند سے مروى ہے کہ وہ اس آیت سے مراد حاملہ، دودھ پلانے والى خواتین، اور ایسے بوڑھے مرد و خواتین کو لیتے تھے جو بڑھاپے کى وجہ سے روزہ رکھنے کى استطاعت نہ رکھتے ہوں۔ ([3])
عبداللہ بن عباس رضى اللہ عنہما فرماتے ہیں:
«إِذَا خَافَتِ الحَامِلُ عَلَى نَفْسِهَا وَالمُرْضِعُ عَلَى وَلَدِهَا فِي رَمَضَانَ يُفْطِرَانِ، وَيُطْعِمَانِ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، وَلَا يَقْضِيَانِ صَوْمًا» ([4])
"جب حاملہ اور دودھ پلانے والى خواتین روزہ رکھنے میں اپنے اوپر یا اپنے بچے کے اوپر خوف محسوس کریں تو وہ روزہ نہیں رکھیں گى، اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں گى، اور ان چھوٹے ہوئے روزوں کى قضاء نہیں کریں گى۔"
عبداللہ بن عمر رضى اللہ عنہما کى اہلیہ حاملہ تھیں، انہوں نے ابن عمر رضى اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:
«أَفْطِرِي وَأَطْعِمِي عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَلَا تَقْضِي» ([5])
"روزہ توڑ لو اور ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلاؤ اور ان روزوں کى قضاء کى کوئى ضرورت نہیں۔"
ان جلیل القدر صحابہ کرام کے قول کى روشنى میں یہ بات واضح ہوتى ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والى خواتین کو چھوٹے ہوئے روزوں کى قضاء نہیں کرنى ہے۔ اور دونوں صحابى کے اس قول کى کسى ایک صحابى نے بھى مخالفت نہیں کى، اسے اجماع سکوتى سے بھى تعبیر کیا جاتا ہے۔
امام ترمذى رحمہ اللہ نے بھى ذکر کیا ہے کہ بعض اہل علم اسى بات کے قائل تھے کہ حاملہ و مرضعہ صرف فدیہ دے گى قضاء نہیں کرے گى۔ ([6])
مندرجہ بالا آیت، حدیث اور اقوال صحابہ کى روشنى میں یہ بات ثابت ہوتى ہے کہ شریعت اسلامیہ نے حاملہ اور بچے کو دودھ پلانے والى خواتین سے روزے کو معاف کیا ہے، اور اس کى قضاء بھى ان کے اوپر واجب نہیں کى ہے، صرف چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ ادا کرنا ان کے اوپر واجب ہے۔
اور حکمت کا تقاضہ بھى یہى ہے کیونکہ ایک عورت جب رشتہ ازدواج سے منسلک ہوتى ہے تو کئى سالوں تک اسے دو مرحلوں (حمل و رضاعت) سے چھٹکارا نہیں ملتا، اب اگر دس بیس برس بعد ان جمع شدہ روزوں کى قضاء کرنا چاہے تو تکلیف ما لا یطاق کى قبیل سے ہوجائے گا۔
واللہ اعلم

