سوال
کیا مسلمان مرد و عورت کے لیے کسی مشرک یا مشرکہ سے نکاح کرنا جائز ہے؟
جواب
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد
اس سوال کا جواب دو حصوں میں دیا جاتا ہے۔
مسلمان مرد کا غیر مسلم عورت سے نکاح کرنے کا حکم:
مسلمان مرد کا مشرکہ عورت سے نکاح کرنا حرام ہے۔ قرآن مجید میں اسے صراحت سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں:
وَلَا تَنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكَٰتِ حَتَّىٰ يُؤۡمِنَّۚ [البقرة: 221] ([1])
"اور مشرکہ خواتین سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ مومنہ نہ ہوجائیں۔"
اس آیت میں اہل کتاب (یہود و نصارى کى پاک دامن) خواتین کے علاوہ مسلمان مرد کے لئے کسى بھى طرح کى مشرکہ خواتین سے نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
مشرک کا مطلب: "مشرک وہ ہے جو اللہ کے ساتھ کسى کو شریک ٹھہراتا ہے، چاہے وہ کسى آسمانى شریعت کو ماننے والا ہو یا نہ ہو۔"
اللہ تعالى سورہ ممتحنہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّونَ لَهُنَّۖ [الممتحنة: 10] ([2])
"نہ وہ (مشرک خواتین) ان (مردوں) کے لئے حلال ہیں اور نہ ہى وہ (مشرک مرد) ان (خواتین) کے لئے حلال ہیں۔"
اگر کسى مسلمان نے کسى مشرکہ خاتون سے نکاح کرلیا ہے تو اسے چاہئے کہ فورًا اس سے الگ ہوجائے۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں:
وَلَا تُمۡسِكُواْ بِعِصَمِ ٱلۡكَوَافِرِ [الممتحنة: 10] ([3])
"اور کافرہ عورتوں کى عزت کو اپنے پاس نہ رکھو۔"
البتہ مسلمان مرد کا یہود و نصارى کى پاک باز خواتین سے نکاح جائز ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ وہ خاتون پاکیزہ ہو۔ اللہ تعالى سورۃ المائدۃ میں فرماتے ہیں:
وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ إِذَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحۡصِنِينَ غَيۡرَ مُسَٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِيٓ أَخۡدَانٖ [المائدة: 5] ([4])
"اور (تمہارے لیے حلال ہیں) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان اہل کتاب عورتوں میں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دى گئى ہے جب کہ ان کے مہر انہیں دے دو ایسے حال میں کہ نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائى کرنے والے۔"
اگرچہ اسلام کى نظر میں یہ پسندیدہ نہیں کہ مسلمان مرد یہود و نصارى کى پاک باز خاتون سے نکاح کرے۔ کیونکہ بیوى مسلمان مرد کو اپنے دین کى طرف مائل کرسکتى ہے اور اگر بچے پیدا ہوئے تو معاملہ مزید سنگین ہوجائے گا۔
مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح:
کوئى بھى مشرک مرد کسى مسلمان عورت سے اس وقت تک شادى نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اسلام قبول نہ کرلے۔ اللہ رب العالمین کا صاف فرمان ہے:
وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ وَلَعَبۡدٞ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٞ مِّن مُّشۡرِكٖ وَلَوۡ أَعۡجَبَكُمۡۗ أُوْلَٰٓئِكَ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَٱللَّهُ يَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ وَٱلۡمَغۡفِرَةِ بِإِذۡنِهِۦۖ وَيُبَيِّنُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ [البقرة: 221] ([5])
"اور مشرکوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور بلاشبہ مومن غلام مشرک سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں اچھا لگے، وہ لوگ جہنم کى طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور مغفرت کى طرف بلاتا ہے اپنے اذن سے۔"
یہاں (مشرک) سے مراد ہر وہ کافر ہے جو دین اسلام کو ماننے والا نہ ہو۔ اس میں یہودى، نصرانى، بت پرست، مجوسى وغیرہ سب شامل ہیں۔
مسلمان عورت کسى بھى غیر مسلم سے شادى نہیں کرسکتى۔ اس کى وجہ یہ ہے کہ ازدواجى تعلقات میں میاں بیوى ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب مسلمان عورت مشرک مرد سے شادى کرے گى تو چونکہ مرد کو عورت پر اختیار اور سرپرستى حاصل ہے وہ عورت کو اسلام سے کفر اختیار کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
خلاصہ:
- مسلمان مرد مشرکہ عورت سے نکاح نہیں کرسکتا۔
- مسلمان مرد یہود و نصارى کى پاک باز خواتین سے نکاح کرسکتا ہے۔
- مسلمان عورت کسى بھى غیر مسلم مرد سے نکاح نہیں کرسکتى۔
واللہ اعلم

