سوال
گھر میں پرندے پالنا کیسا ہے؟ کیا انہیں پنجرے میں قید رکھنا جائز ہے؟
جواب
جواب مختصر
گھر میں پرندے پالنا اور انہیں پنجرے میں قید رکھنا جائز ہے بشرطیکہ انہيں كھاناپينا اور دانہ وغيرہ ديا جائے اور ان کى مناسب حفاظت کا انتظام کیا جائے۔
اسلام نے گھروں میں پالے جانے والے پرندوں یا جانوروں کى خوراک کا اہتمام کا حکم دیا ہے۔ جب سب گھر والے کہیں باہر جائیں تو ان کی غذا اور دیکھ ریکھ کاکوئی مناسب انتظام کرکے جائیں۔انہیں گھر میں باندھ کر رکھنا ، کھانا پینا نہ دینا عذاب الہى کا سبب ہے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
گھر میں پرندے پالنا اور انہیں پنجرے میں قید رکھنا جائز ہے۔ بشرطیکہ انہيں كھاناپينا اور دانہ وغيرہ ديا جائے اور ان کى مناسب حفاظت کا انتظام کیا جائے۔عموماً پرندے پالنے کا مقصد گھر کى خوبصورتى میں اضافہ یا پرندوں کى چہچہاہٹ سننا ہوتا ہے۔
اس کى دلیل یہ مشہور روایت ہے۔ حضرت انس بن مالک رضى اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«كَانَ النَّبِيُّ ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ، قَالَ: أَحْسَبُهُ فَطِيمٌ، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ»([1])۔
ترجمہ: رسول كريم ﷺ بہترين اخلاق كے مالك تھے، ميرا ايك بھائى تھا جسے ابو عمير كہا جاتا تھا، راوى كہتے ہيں كہ ميرا خيال ہے وہ دودھ پينا چھوڑ چكا تھا، اور جب نبى كريم ﷺ تشريف لاتے تو فرماتے:
" اے ابو عمير نغير نے كيا كيا؟ وہ اس چڑيا كے ساتھ كھيلا كرتا تھا۔
بعض روایتوں کے مطابق حضرت انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ کے چھوٹے بھائى ابو عمير كے پاس نغير نامى ايك پرندہ تھا جو مر گيا، اور وہ بچہ اس پر بہت غمگين ہوا، تو رسول كريم ﷺ اس سے يہ كہہ كر ہنسى مذاق كرتے:
" اے ابو عمير نغير نے كيا كيا "([2])۔
نغير ايك چھوٹا سا پرندہ ہے جو چڑيا كے مشابہ ہے، اور بعض نے اسے بلبل كہا ہے۔ ([3])۔
اس حديث سے ثابت ہوتا ہے کہ پرندے پالنا اور انہیں پنجرے میں رکھنا جائز ہے۔ اگر یہ کام غلط ہوتا تو آپ ﷺ اس سے منع فرماتے۔لیکن نبى كريم ﷺ نے ابو عمير رضى اللہ تعالى عنہ كو اس سے نہيں روكا، اور اس كا انكار نہيں كيا۔ ([4])۔
اسلام نے گھروں میں پالے جانے والے پرندوں یا جانوروں کى خوراک کا اہتمام کا حکم دیا ہے۔ جب سب گھر والے کہیں باہر جائیں تو ان کی غذا اور دیکھ ریکھ کاکوئی مناسب انتظام کرکے جائیں۔انہیں گھر میں باندھ کر رکھنا ، کھانا پینا نہ دینا عذاب الہى کا سبب ہے۔
حدیث میں ہے ایک عورت نے بلی کو باندھے رکھا، کھانے پینے کو کچھ نہ دیا اور نہ چھوڑا کہ زمین سے وہ اپنی روزی حاصل کرے۔ اس کے سبب وہ جہنم میں چلی گئی۔ الفاظ حدیث ملاحظہ فرمائیں:
«عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِی هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّی مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِیهَا النَّارَ، لاَ هِیَ أَطْعَمَتْهَا وَلاَ سَقَتْهَا، إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلاَ هِیَ تَرَکَتْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»([5])۔
ترجمہ: "ايك عورت بلى كى بنا پر آگ ميں داخل ہو گئى، اس نے اسے باندھ ديا، اور نہ تو اسے كھلايا اورنا پلايا، اور نہ ہى اسے چھوڑا كہ وہ زمين كے كيڑے مكوڑے كھا كر گزارا كر لے"
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانورکے کھانے پینے کا انتظام ہو توپھر اسے گھر میں پالنا جائز ہے۔ ([6])۔
واللہ اعلم

