سوال
کیا خود کشى کرنے والے کى نماز جنازہ ادا کى جائے گى؟ کیا اس کى تجہیز وتکفین بھى ہوگى؟
جواب
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد
خودکشى کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس سے سختى سے منع کیا گیا ہے۔ خود کشى کرنے والے پر جنت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں:
«مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى فِيهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا» ([1])
"جو شخص پہاڑ سے گراکر اپنے آپ کو مار ڈالے وہ جہنم کى آگ میں گرے گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔ اور جس نے زہر پى کر اپنے آپ کو مار ڈالا، اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ جہنم کى آگ میں اسے پیئے گا۔ اور جس نے اپنے آپ کو لوہے سے مار ڈالا، اس کا لوہا اس کے پیٹ میں جہنم کى آگ میں پھنس جائے گا، وہ ہمیشہ اس میں رہے گا۔"
نیز آپ ﷺ فرماتے ہیں:
«كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ فَجَزِعَ فَأَخَذَ سِكِّينًا فَحَزَّ بِهَا يَدَهُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ قَالَ اللهُ تَعَالَى: بَادَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِهِ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» ([2])
"تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جسے زخم تھا اور وہ گھبرا گیا تو اس نے چھرى سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا، اور خون بہنا بند نہ ہوا اور وہ مرگیا۔ اللہ تعالى نے فرمایا: میرے بندے نے خود سے میرے پاس آنے کى جلدى کى، میں اس پر جنت کو حرام قرار دیتا ہوں۔"
تجہیز و تکفین:
مذکورہ احادیث مبارکہ سے خودکشى کى سنگینى کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خود کشى کرنے والا کافر شمار نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ کفر کا مطلب اسلام کا انکار کردینا یا اسلام سے نکل جانا ہے، اور خودکشى کبیرہ گناہ ہے۔ کبیرہ گناہ کا مرتکب اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ وہ مسلمان رہتا ہے۔ اس لئے فقہاء کى متفقہ رائے ہے کہ اسے غسل دے کر مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا جائے گا۔ امام رملى نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ([3])
نماز جنازہ کا حکم:
کیا اس کى نماز جنازہ ادا کى جائے گى؟ صحیح مسلم اور سنن ابوداود میں حضرت جابر بن سمرہ رضى اللہ عنہ سے روایت ہے:
أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ([4])
"ایک مرتبہ اللہ کے نبى ﷺ کے پاس تیر سے خودکشى کرنے والے شخص کا جنازہ لایا گیا۔ تو آپ ﷺ نے اس کى نماز جنازہ ادا نہیں کى۔"
اس حدیث کى روشنى میں فقہاء میں اختلاف ہے:
پہلا قول: فقہائے احناف، مالکیہ اور شوافع کے نزدیک امام اور دوسرے مسلمان اس کى نماز جنازہ ادا کریں گے۔ ([5])
دوسرا قول: بعض فقہاء کے نزدیک کسى بھى حال میں اس کى نماز جنازہ نہیں ادا کى جائے گى۔ عمر بن عبد العزیز اور امام اوزاعى کى یہى رائے ہے۔ ([6])
تیسرا قول: بعض فقہاء حنابلہ کے نزدیک امام اس کى نماز جنازہ نہیں ادا کرے گا، البتہ دوسرے مسلمان ادا کریں گے۔ ([7])
دلائل کى روشنى میں یہ بات زیادہ درست لگتى ہے کہ امام اس کى نماز جنازہ پڑھائے گا اور مسلمان اس کى نماز جنازہ ادا کریں گے۔ کیونکہ:
اول: خودکشى اگرچہ کبیرہ گناہ ہے لیکن اس کى وجہ سے وہ شخص اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔ اس کا شمار مسلمانوں ہى میں ہوگا، اور انتقال کے بعد ہر مسلمان تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ اور تدفین کا مستحق ہے۔ یہ فرض کفایہ ہے۔
دوم: نبى ﷺ کا خودکشى کرنے والے کى نماز جنازہ نہ ادا کرنا آپ ﷺ کے ساتھ خاص تھا۔ کیونکہ آپ کا نماز جنازہ ادا کرنا باعث رحمت تھا۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں:
وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٞ لَّهُمۡۗ [التوبة: 103]
"اور ان پر نماز پڑھو۔ آپ کى نماز ان کے لئے باعث رحمت ہے۔"
نیز یہ خودکشى کى سنگینى بتانے اور تعزیر کے طور پر تھا۔
واللہ اعلم

