سوال
ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
:
مذکورہ مسئلہ میں یہ بات زیادہ درست نظر آتى ہے کہ اگر كھلواڑ اور دھوكہ كا خدشہ نہ رہے اور خاوند اور ولى كى پہچان ہو جائے اور ايجاب و قبول كو دو گواہ سن رہے ہوں تو ویڈیو کال کے ذریعہ نكاح درست ہے۔ علامہ شيخ ابن باز رحمہ اللہ نے يہى فتوى ديا ہے۔
ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح کو مزید درست اور پختہ بنانے کے لئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل مناسب ہوگا۔
1- ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح کو صرف ضرورت کے تحت اور اپنے وطن سے دور ان لوگوں تک محدود کرنا چاہیئے جو ایک ہی مجلس میں نہیں مل سکتے۔
2- ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح شرعی عدالتوں یا قابل اعتماد ملى تنظیموں ، یا معتبر علمائے کرام كى نگرانى اور موجودگى میں منعقد کیا جائے۔
3-عقد نکاح سے پہلے زوجین ، ولى اور گواہوں کے ذاتی شناختى کارڈز کى تصدیق کرائى جائے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
نکاح اور شادی بیاہ کے لیے اسلام نے کچھ متعین اصول مقررکیے ہیں۔
شادی کے لیے لڑکا اور لڑکى کی رضامندی ضرورى ہے۔ اسى طرح ايجاب و قبول نكاح كے اركان ميں شامل ہے۔ ايجاب و قبول كے بغير نكاح صحيح نہيں ہوتا۔
ايجاب: ولى يا اس كے وكيل كى جانب سے صادر شدہ الفاظ كو كہتے ہيں۔
اور خاوند يا اس كے وكيل كى جانب سے صادر شدہ الفاظ كو قبول كہا جاتا ہے۔
ايجاب و قبول ميں شرط يہ ہے كہ يہ ايك ہى مجلس ميں ہو۔ اس سلسلے میں فقہاء کى رائے بہت واضح ہے۔ فقہ کى مشہور کتاب(كشاف القناع) ميں یہ شرط اس طرح درج ہے:
" جب تك مجلس ميں ہوں تو ايجاب كے بعد قبول ميں تاخير صحيح ہے؛ ليكن شرط يہ ہے كہ وہ اسى مجلس ميں كسى دوسرے ايسے كام ميں مشغول نہ ہوں جس سے عام طور پر ايجاب و قبول ختم ہو جاتا ہے، چاہے فاصلہ كتنا ہى ہو كوئى فرق نہيں پڑتا۔
اور اگر ايجاب كے بعد قبول كرنے سے قبل جدا ہو جائيں تو عقد نكاح باطل ہو جاتا ہے، اور اسى طرح اگر وہ ايسے كام ميں مشغول ہو جائيں جس سے عرف عام ميں ايجاب كے بعد قبول ختم ہو جاتا ہے تو بھى عقد نكاح باطل ہو جائيگا، كيونكہ يہ اس عقد سے اعراض ہے، اور انكار كے مشابہ ہے " ([1])۔
اسى طرح عقد نكاح صحيح ہونے كے ليے گواہ بھى شرط ہيں۔
اس بنا پر اہل علم جديد وسائل یا ویڈ کال كے ذريعہ عقد نكاح كرنے ميں اختلاف ركھتے ہيں۔ اس سلسلے میں ان کى دو رائیں ہیں:
پہلى رائے: پہلى رائے یہ ہے کہ اس طرح کا نکاح درست نہیں ہے۔ شادی کے لیے لڑکا اور لڑکى کی رضامندی ہی نہیں بلکہ اس کے لیے گواہوں کا ہونا بھی ضروری ہے اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے طے پانے والی شادیوں میں ان تمام شرائط کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔ جب شادی اور نکاح کے تمام ضابطے پورے نہیں کیے جائیں گے تو اسے شرعی نکاح قرار نہیں دیا سکے گا۔
انٹرنیٹ، موبائل فون یا کسی ٹی وی پروگرام کے ذریعے نکاح قطعی نہیں بلکہ ظنی ہوگا۔ ایسا اس لیے درست نہیں کیونکہ ان تمام آلات کو استعمال کرتے ہوئے لڑکا یا لڑکی یا دونوں اپنی اصلیت چھپا سکتے ہیں۔ وہ اپنی اصل تصویر اور حقائق کے بجائے غلط معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ شادی کے لیے قطعی امور کا طے پانا ضروری ہے ، محض ظن کی بنیاد پر شادی نہیں ہوتی۔
ان کے مطابق ویڈیو کال کے ذریعہ ایجاب و قبول کرنے سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوتا؛اس لیے کہ نکاح ایجاب و قبول سے منعقد ہوتا ہے اور ایجاب و قبول کے درست و معتبر ہونے کے لیے اتحادِ مجلس (مجلس کا ایک ہونا) شرط ہے، جو کہ ٹیلی فون پر یا ویڈیوکال کے ذریعہ نکاح کی صورت میں نہیں پائی جاتی، کیوں کہ ایجاب کرنے والا کہیں اور ہوتا ہے اور قبول کرنے والا کہیں اور۔لہذا اس صورت میں مذکورہ نکاح شرعاًمنعقد نہیں ہوا؛ اس لیے کہ ایجاب وقبول کی مجلس ایک نہیں ہے۔
بعض اہل علم گواہى كى عدم موجوگى كى بنا پر اس سے منع كرتے ہيں۔
اور كچھ اہل علم نكاح كى احتياط كے ليے اس سے منع كرتے ہيں؛ كيونكہ كسى دوسرے كى آواز نكالنا اور اس سے دھوكہ كھا جانا ممكن ہے۔ سعودى عرب کى مستقل فتوى كميٹى نے بطور احتیاط اس سے منع کیا ہے۔ اور يہى فتوى ديا ہے۔ ([2])۔
دوسرى رائے:
اس سلسلے میں دوسرى رائے یہ ہے کہ اس طرح کا نکاح اگر تمام شرائط موجود ہوں تو درست ہے۔
در اصل جدید وسائل اور ذرائع نے دور دراز بیٹھے لوگوں کو دیکھنا اور سننا ممکن بنا دیا ہے۔ اس لیے بعض اوقات مجالسِ نکاح ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کی جاتی ہیں۔ اگر ویڈیو کال کے ذریعے ہونے والے نکاح میں نکاح کے ارکان اور شرائط (ایجاب و قبول، ولی کی اجازت، شہادتین اور حق مہر وغیرہ) پورے کیے گئے ہیں تو نکاح ہو جائے گی، اگر ان شرائط میں کوئی ایک شے مفقود ہو یا حقیقت کے برعکس ہے تو نکاح نہیں ہوگی۔
اور اس عقد نكاح پر گواہى بھى ممكن ہے، وہ اس طرح كہ ٹيلى فون يا انٹرنيٹ كے ذريعہ متكلم كى آواز سن كر گواہى دى جا سكتى ہے، بلكہ اس ترقى يافتہ دور ميں تو وسائل اتنے ترقى كر چكے ہيں كہ ايجاب و قبول كے ذريعہ ولى كو شكل و صورت كا مشاہدہ كرنا بھى ممكن ہے، اور اسى طرح خاوند كو بھى ديكھا جا سكتا ہے۔
جہاں تک رہى یہ بات کہ اس نکاح میں اتحاد مجلس نہیں ہوتا۔ یہ کہنا درست نظر نہیں آتا۔
اگر ویڈیو کال پر زوجین ، ولى اور گواہوں كى شكل و صورت كا مشاہدہ ہو رہا ہے تو ايك ہى وقت ميں موجود ہ اشخاص كو ايك ہى مجلس كا حكم ديا جائے گا۔ اسلامى فقہ اكيڈمى نے بھى اس پر ہى اعتماد كيا ہے۔ ([3])۔
مذکورہ مسئلہ میں یہ بات زیادہ درست نظر آتى ہے کہ اگر كھلواڑ اور دھوكہ كا خدشہ نہ رہے اور خاوند اور ولى كى پہچان ہو جائے اور ايجاب و قبول كو دو گواہ سن رہے ہوں تو ویڈیو کال کے ذریعہ نكاح درست ہے۔ شيخ ابن باز رحمہ اللہ نے يہى فتوى ديا ہے۔
ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح کو مزید درست اور پختہ بنانے کے لئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل مناسب ہوگا۔
1- ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح کو صرف ضرورت کے تحت اور اپنے وطن سے دور ان لوگوں تک محدود کرنا چاہیئے جو ایک ہی مجلس میں نہیں مل سکتے۔
2- ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح شرعی عدالتوں یا قابل اعتماد ملى تنظیموں ، یا معتبر علمائے کرام كى نگرانى اور موجودگى میں منعقد کیا جائے۔
3- عقد نکاح سے پہلے زوجین ، ولى اور گواہوں کے ذاتی شناختى کارڈز کى تصدیق کرائى جائے۔
واللہ اعلم

