سوال
خلع لینے کے بعد دوبارہ اسی خاتون سے نکاح کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
اختصار:
خلع لینے کے بعد اور عدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ اسی خاتون سے نکاح کیا جا سکتا ہے؛ بشرطیکہ خاتون کی رضامندی سے نئے نکاح، نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو۔ اس لیے کہ خلع طلاق بائن کی طرح نہیں کہ جس کے بعد رجوع ممکن نہیں۔ جیسا کہ حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے دور میں خلع لے لیا، تو نبی ﷺ نے انہیں ایک حیض کی عدت گزارنے کا حکم دیا اور اس کے بعد واپسی ہو گئی۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
خلع کی شرعی تعریف:
اگر زوج و زوجہ میں ناچاقی رہتی ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ احکام شرعیہ کی پابندی نہ کر سکیں گے تو بیوی کی طرف سے مال کے بدلے میں نکاح ختم کرنے کو خلع کہتے ہیں۔
فقہاء کے درمیان اس بابت اختلاف ہے کہ خلع طلاق ہے یا فسخ نکاح؟
خلع اور طلاق میں فرق:
طلاق دینے کا اختیار شوہر کو ہوتا ہے۔ طلاق اس کی مرضی سے ہوتی ہے اور اس میں طلاق دینے کے لیے خاص الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ خلع یا فسخ بیوی کی رضامندی سے ہوتا ہے۔ ([1])
طلاق دینے کے بعد شوہر کو رجوع کا اختیار ہوتا ہے اور طلاق و رجوع میں شوہر کی رضامندی شامل ہوتی ہے۔ جبکہ خلع اور فسخ میں رجوع نہیں ہوتا، بلکہ خاتون کی رضامندی سے نئے نکاح، نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوتا ہے۔ ([2])
طلاق کبھی کسی سبب سے اور کبھی بلا سبب بھی ہوتی ہے۔ جبکہ فسخ یا خلع کسی شرعی سبب کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ([3])
بعض سلف، فقہاء حنابلہ ([4])، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ([5])، امام شوکانی ([6]) اور شیخ ابن عثیمین ([7]) رحمہم اللہ کے نزدیک خلع فسخ ہے۔
ان کی متعدد دلیلیں ہیں، جن میں سے ایک حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کی روایت ہے:
«أنَّهَا اخْتَلَعَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ ﷺ — أَوْ أُمِرَتْ — أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ» ([8])
"حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے دور میں خلع لے لیا، تو نبی ﷺ نے انہیں ایک حیض کی عدت گزارنے کا حکم دیا۔"
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اگر خلع طلاق شمار ہوتی تو صرف ایک حیض کی عدت گزارنے کا حکم نہیں دیا جاتا بلکہ تین حیض بطور عدت گزارنے کو کہا جاتا۔
مذکورہ تفصیل سے پتہ چلا کہ خلع لینے کے بعد اور عدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ اسی خاتون سے نکاح کیا جا سکتا ہے؛ لیکن شرط یہ ہے کہ خاتون کی رضامندی سے نئے نکاح، نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو۔
واللہ اعلم

