سوال
مدینہ منورہ کے کنویں "بئر غرس" کے بارے میں کیا کوئى صحیح حدیث ہے؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اختصار:
بئر غرس (مدینہ منورہ کا کنواں) کے بارے میں جو روایات ہیں کہ نبى ﷺ نے اپنے جسم مبارک کو اس کنویں کے پانى سے غسل دینے کى وصیت فرمائى تھى، یہ تمام روایات سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں اور انہیں دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
بئر غرس سے متعلق دو روایات مذکور ہیں:
پہلى روایت:
حضرت على رضى اللہ عنہ سے مروى ہے کہ نبى ﷺ نے انہیں وصیت فرمائى تھى کہ آپ کے جسم اطہر کو بئر غرس کے پانى سے غسل دیا جائے:
أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ أُغَسِّلَهُ مِنْ بِئْرِ غَرْسٍ
"رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائى کہ میں آپ کو بئر غرس کے پانى سے غسل دوں۔"
اس روایت کى سند میں حسین بن زید الکوفى ہیں جن کے بارے میں محدثین نے کہا ہے:
- امام یحیى بن معین رحمہ اللہ نے کہا: لیس بشىء (یہ کچھ نہیں ہے)
- امام ذہبى رحمہ اللہ نے انہیں منکر الحدیث (وہ جن کى حدیثیں منکر ہوں) قرار دیا ہے
اس لئے یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ ([1])
دوسرى روایت:
حضرت ابن عمر رضى اللہ عنہما سے بھى بئر غرس کے بارے میں ایک روایت مذکور ہے۔ لیکن اس کى سند میں امام واقدى ہیں جو محدثین کى نگاہ میں متروک (جن کى روایت چھوڑ دى گئى ہو) ہیں۔ اس روایت کے باقى سلسلہ ہائے سند میں بھى ضعف موجود ہے۔ ([2])
چنانچہ بئر غرس کے بارے میں جتنى روایات مروى ہیں وہ سب ضعیف ہیں اور انہیں بطور دلیل استعمال کرنا درست نہیں۔
واللہ اعلم

