سوال
کتنى مسافت پرقصر کرسکتے ہیں؟ کیا دہلى سے امروہہ جانے پر قصر کرسکتے ہیں؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اختصار:
احادیث کى کتابوں میں کسى بھى صحیح حدیث میں سفر میں قصر کى کوئى مدت نہیں بیان کى گئى ہے۔ البتہ جس سفر کى بنا پر سفر کى رخصتوں پر عمل کرنا شرعى عمل ہے اس سے مراد ایسا سفر ہے جو عرف میں بھى سفر ہو۔ اس کا اندازہ تقریباً 88 کلومیٹر ہے۔ چنانچہ جو شخص 80 کلومیٹر یا اس سے زیادہ سفر کرے تو اس کیلئے سفر کى رخصتوں پر عمل کرنا جائز ہے۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
مسافر کتنى مسافت پر قصر کرے اس مسئلہ میں علماء کے دو مشہور قول ہیں:
پہلا قول: تقریباً (88) کیلو میٹر کى مسافت پر قصر کرسکتے ہیں۔ یہ جمہور اہل علم اور فقہاء (مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ، احناف میں سے امام ابو یوسف، بعض سلف، فقہاء محدثین اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ) کا قول ہے۔
ان کى دلیلیں:
(الف) حضرت عبد اللہ ابن عباس رضى اللہ عنہما فرماتے ہیں: اے باشندگان مکہ! چار بُرد سے کم مسافت میں نماز قصر نہ کرو، یعنى مکہ سے طائف یا عسفان تک۔ ([1])
چار برد اس زمانہ کے لحاظ سے تقریباً (88) کیلو میٹر ہوتے ہیں جو مکہ سے طائف یا عسفان کى مسافت بنتى ہے۔
(ب) عطاء بن رباح سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن عباس اور عبد اللہ ابن عمر رضى اللہ عنہما چار برد پر قصر کرتے اور روزہ نہ رکھنے کى رخصت استعمال کرتے تھے۔ ([2])
چار برد پرانے زمانے میں ایک دن اور رات کا سفر ہوتا تھا۔
دوسرا قول: قصر کى کوئى خاص مسافت نہیں ہے۔ بلکہ جس مسافت پر بھى حالات کے لحاظ سے لفظ (سفر) صادق آئے اس پر قصر کرسکتے ہیں۔ متعدد قدیم ومعاصر فقہاء اس کے قائل ہیں، مثلاً: بعض فقہاء حنابلہ، ظاہریہ، ابن قدامہ، ابن تیمیہ، ابن القیم، علامہ شوکانى، شیخ امین شنقیطى، شیخ ابن عثیمین اور شیخ البانى رحمہم اللہ۔
ان کى دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالى قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
وَإِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَقۡصُرُواْ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ [النساء: 101]
"جب تم زمین میں سفر کرو تو نماز قصر کرنے میں تم پر کوئى حرج نہیں۔"
اس آیت کریمہ میں کسى بھى سفر میں قصر کرنے کى بات کہى گئى ہے۔ سفر کو کسى مدت یا وقت سے خاص نہیں کیا گیا ہے۔ ([3])
اور حضرت عبد اللہ ابن عمر رضى اللہ سے مروى ہے کہ وہ فرماتے ہیں: اگر میں ایک میل بھى گھر سے نکلوں تو قصر کروں گا۔
قرآن وسنت سے سفر کى مسافت کے بیان میں تفریق نہیں کى گئى ہے۔ سفر لمبا بھى ہوسکتا ہے چھوٹا بھى۔ معاشرہ میں جس مسافت پر سفر کا اطلاق ہو اتنى مسافت پر قصر کرسکتے ہیں۔
اگر سفر کى مسافت کى کوئى حد ہوتى تو نبى ﷺ اسے ضرور بیان کرتے، ہرگز چھوڑتے نہیں۔ ([4])
دلائل کى روشنى میں دونوں قول مناسب ہیں۔ اگر کوئى شخص (88) کیلو میٹر کى مسافت پر قصر کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔
لیکن قصر کى ابتداء اپنے علاقے کى آبادى کو چھوڑنے کے بعد سے ہوگى۔ آبادى میں رہتے ہوئے قصر کى مسافت شمار نہیں ہوگى۔
واضح ہو کہ دہلى سے امروہ تقریباً (160) کلو میٹر ہے۔ اس مسافت پر قصر کرسکتے ہیں۔
واللہ اعلم

