سوال
مدینہ میں غرس نامى کنویں کى کیا حقیقت ہے؟
جواب
جواب مختصر
غرس مدینہ کا مشہور کنواں ہے،اس کى فضیلت سے متعلق کوئى بھى صحیح روایت موجود نہیں۔بلکہ ضعیف اور موضوع روایتیں ہیں۔ لہذا یہ کہنا کہ اس کنویں کا آپ ﷺ سے تعلق ہے، غلط ہوگا۔ آپ ﷺ کى طرف کسى بھى چیز کى نسبت کے لئے صحیح حدیث مطلوب ہوتى ہے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
بئر غرس مدینہ منورہ کا مشہور کنواں ہے۔ یہ شارع قربان پر مسجد قباء سے قریب ہے۔ یہ کنواں مشہور صحابى حضرت سعد بن خیثمہ انصارى رضی اللہ عنہ کى ملکیت تھا۔ ([1])۔
اس کنویں سے متعلق چند حدیثیں وارد ہیں۔ مثلاً:
(1):حضرت علی رضی الہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے وصیت فرمائى تھى۔
"إِذَا أَنَا مُتُّ فَاغْسِلُونِي بِسَبْعِ قِرَبٍ مِنْ بِئْرِي، بِئْرِ غَرْسٍ"
ترجمہ: اگر میں مرجاؤوں تو مجھے میرے کنویں غرس سے سات مشکیزے پانى سے غسل دینا۔
یہ روایت سنن ابن ماجہ ([2]) ، تاريخ بغداد ([3]) اور تہذیب الکمال ([4]) وغیرہ میں وارد ہے۔
یہ روایت انتہائى درجہ کى ضعیف ہے۔ (منکر جداً)۔ اسمیں ایک رواى (حسین بن زید الکوفى) ہے۔ اس کے بارے میں مشہور محدث اوراور ماہر فن رجال ابن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"لقیتہ ولم أسمع منہ ولیس بشیء" ([5]). میرى اس سے ملاقات ہوئى ہے۔ لیکن میں نے اس سے کوئى روایت نہیں لى۔ اور وہ کسى لائق نہیں۔
امام ذہبى اس کے بارے میں فرماتے ہیں: "حسين منكر الحديث، لا يحل أن يحتج به" ([6]) حسین کى روایت میں نکارت ہے۔اس کى حدیثیں قابل احتجاج نہیں۔
(2):عن ابن عمر قال: قال رسول الله، ﷺ وهو جالس على شَفير بئر غرس: رَأيْتُ اللّيْلَةَ أنِّى جَالِسٌ عَلى عَينٍ مِنْ عُيُونِ الجنَّة: يعنى هذه البئر. ([7]).
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ورایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بئر غرس کے منڈھیر پر تشریف فرماتھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے آج رات خواب دیکھا کہ میں جنت کے ایک کنویں پر بیٹھا ہوں۔ یعنى بئر غرس پر۔
یہ روایت ابن سعد نے الطبقات میں ذکر کى ہے۔ اس کى سند میں مشہور ضعیف (متروک) راوى واقدى ہیں۔ ([8])۔
یہى روایت ابن سعد نے الطبقات میں واقدى کے ذریعہ تین اور سندوں سے روایت کى ہے۔
ایک سند میں واقدى کے علاوہ (ابن ابى زید) اور ان کے (شیخ) ہیں۔ یہ دونوں مجہول ہیں۔
دوسرى سند میں واقدى کے علاوہ (ابو بکر بن أبی سبرۃ) نامى رواى ہیں۔ محدثین کے نزدیک یہ حدیثیں گڑھ کر بیان کرتے تھے۔
تیسرى سند میں واقدى کے علاوہ (عاصم بن عبید اللہ) ہیں۔ محدثین کے نزدیک یہ ضعیف اور منکر راوى ہیں۔ ([9])
واللہ اعلم

