سوال
حرام کمانے والے سے چندہ لینا اور مسجد بنانے کا شرعی حکم کیا ہے ؟
جواب
جواب مختصر
حرام طریقے سے کمائى ہوئى دولت بطور چھٹکارا مسجد کى تعمیر وترقى میں لگانے میں کوئى حرج نہیں اور ایسے شخص سے مسجد یا مدرسے کے لئے تعاون بھى لیا جاسکتا ہے۔ تعاون لینے والے کے لئے وہ دولت حلال ہوگى۔
شریعت کے اصول کے مطابق ایک ہى چیز کا حکم دو لوگوں کے لئے الگ الگ ہوسکتا ہے، ایک کے لئے حلال تو دوسرے کے لئے حرام۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
مسجد الله كا گھر ہے، اس کى تعمیر وترقى میں حلال روزى کا استعمال ہونا چاہیئے۔ حضرت ابو هريره رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ نبى ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
«إنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لا يَقْبَلُ إلَّا طَيِّبًا » ([1])۔
ترجمہ: " اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہى کو قبول کرتا ہے"۔
اگرکسى شخص نے ناجائز ذرائع سے حرام کمایا ہو ، مثال کے طور پر شراب كى تجارت سے، يا پھر سودى كاروبار، يا فلموں میں کام کرکے یا موسيقى اور گانے بجانے وغيرہ كى اجرت حاصل كر كے، یا کوئی اور حرام ذرائع آمدنی تو يہ مال صرف كمانے والے كے لئے حرام ہو گا۔
ليكن اگر كوئى دوسرا شخص جائز طريقہ سے یہ مال حاصل کرے تو اس کے لئے یہ مال حلال ہوگا، مثلا صاحب مال اسے مسجد كى تعمير كے لئے چندہ اور فنڈ ميں دے دے، يا اپنے ملازم كو اس مال سے اجرت اور مزدورى دے، يا اس مال سے اپنى بيوى بچوں پر خرچ كرے، تو ان لوگوں كے لئے اس طرح کے مال سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، يہ مال ان كے لئے حرام نہيں ہو گا، بلكہ حرام تو اس كے لئے ہے جس نے اسے حرام طريقہ سے كمايا ہے۔
ناجائز کمائى سےتوبہ كا طريقہ يہ ہے كہ اس مال سے چھٹكارا حاصل كيا جائے، اور اسے نيكى اور بھلائى كے كاموں ميں صرف كر ديا جائے، اس سے غریبوں کى مدد کى جائے یا مسکین طلباء کى فیس ادا کى جائے وغیرہ، اس دولت كا استعمال مسجد كى تعمير وترقى ميں بھى کیا جاسکتا ہے۔
فقہائے کرام نے اس مسئلہ کو بہت وضاحت سے بیان کیا ہے۔ امام نووى رحمہ اللہ تعالى " المجموع " ميں لکھتے ہيں:
" قال الغزالي: إذا كان معه مال حرام وأراد التوبة والبراءة منه - فإن كان له مالك معين - وجب صرفه إليه أو إلى وكيله، فإن كان ميتا وجب دفعه إلى وارثه، وإن كان لمالك لا يعرفه ويئس من معرفته فينبغي أن يصرفه في مصالح المسلمين العامة، كالقناطر والربط والمساجد، ونحو ذلك مما يشترك المسلمون فيه، وإلا فيتصدق به على فقير أو فقراء. . . وهذا الذي قاله الغزالي ذكره آخرون من الأصحاب، وهو كما قالوه؛ لأنه لا يجوز إتلاف هذا المال ورميه في البحر، فلم يبق إلا صرفه في مصالح المسلمين. والله سبحانه وتعالى أعلم "
" غزالى كہتے ہيں اگر کسی كے پاس حرام مال ہو اور وہ اس سے توبہ كرنا اور برى ہونا چاہے ،اگر اس مال كا مالك معين ہو تو وہ مال اس تك يا اس كے وكيل كو پہنچانا واجب ہے، اور اگر فوت ہو چكا ہو تو اس كے ورثاء كے سپرد كردیا جائے۔
اور اگر اس كے مالك كا علم نہ ہو اور اس كى معرفت اور پہچان سے نا اميد ہو چكا ہو تو وہ مال مسلمانوں كے عمومى فائدہ اور مصلحت ميں خرچ كرنا چاہيئے، مثلا پل، سرائے اور مسافر خانے، اور مساجد وغيرہ جس ميں سب مسلمان شريك ہوتے ہيں، وگرنہ يہ مال فقراء و مساكين پر خرچ كر ديا جائے... غزالى نے جو يہ بات کہی ہے اسے اصحاب ميں سے دوسروں نے بھى ذكر كيا ہے، اسى طرح ہے جيسے انہوں نے كہا ہے.
كيونكہ اس مال كو ضائع اور تلف كرنا اور سمندر ميں بہا دینا جائز نہيں اس لئے مسلمانوں كے عمومى فائدہ اور مصلحت ميں خرچ كرنا ہى باقى رہا ، اللہ سبحانہ و تعالى ہى زيادہ علم ركھتا ہے " ([2])۔
سعودى عرب کے مشہور عالم شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے سوال كيا گيا:
حرام مال سے تعمير كردہ مسجد ميں نماز ادا كرنے كا کیاحكم ہے ؟
شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:
"الصلاة فيه جائزة ولا حرج فيها؛ لأن الذي بناه من مال حرام ربما يكون أراد في بنائه أن يتخلص من المال الحرام الذي اكتسبه، وحينئذٍ يكون بناؤه لهذا المسجد حلالاً إذا قصد به التخلص من المال الحرام، وإن كان التخلص من المال الحرام لا يتعين ببناء المساجد؛ بل إذا بذله الإنسان في مشروع خيري حصلت به البراءة". ([3]).
" اس مسجد ميں نماز ادا كرنا جائز ہے اور اس ميں كوئى حرج نہيں كيونكہ جس نے اسے حرام مال سے تعمير كيا ہے ہو سكتا اس كى تعمير كرنے ميں اس كى نيت حرام مال سے چھٹكارا حاصل كرنا مقصود ہو، جب اس نے حرام مال سے چھٹكارا حاصل كرنے كے مقصد سے مسجد تعمير كروائى ہو تو اس كى تعمير حلال ہے۔
اگرچہ حرام مال سے چھٹكارا حاصل كرنے كے لئے مساجد كى تعمير كا تعين نہيں، بلكہ اگر انسان اسے كسى خيراتى كام ميں لگا دے تو بھى مقصد حاصل ہو جاتا ہے " ۔
ذکر کردہ تفصیل سے واضح ہوا کہ حرام طریقے سے کمائى ہوئى دولت بطور چھٹکارا مسجد کى تعمیر وترقى میں لگانے میں کوئى حرج نہیں اور ایسے شخص سے مسجد یا مدرسے کے لئے تعاون بھى لیا جاسکتا ہے۔ تعاون لینے والے کے لئے وہ دولت حلال ہوگى۔
شریعت کے اصول کے مطابق ایک ہى چیز کا حکم دو لوگوں کے لئے الگ الگ ہوسکتا ہے، ایک کے لئے حلال تو دوسرے کے لئے حرام۔حضرت انس بن مالك رضي الله عنه سے روایت ہے:
«أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، قَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ.»([4]).
ترجمہ:" رسول اللہ ﷺکی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے بطور صدقہ کے دیا ہے۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ ان کے لئے یہ صدقہ ہے اور ہمارے لئے ( جب ان کے یہاں سے پہنچا تو ) ہد یہ ہے۔"
حضرت بریرۃ کوگوشت بطور صدقہ دیا گیا اور ان کے لئے صدقہ قبول کرنا جائز ہےلیکن اہل بیت کے لئے صدقہ کھانا جائز نہیں۔ جب یہى گوشت حضرت بریرۃ نے بطور ہدیہ نبى ﷺ کو پیش کیا تو آپ ﷺ نے کھایاكیونکہ اہل بیت کے لئے ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔
واللہ اعلم

