سوال
کیا سورۃ الملک کى تلاوت عذاب قبر سے بچاتى ہے؟ کیا اس سورت کى کوئى خاص فضیلت ہے؟
جواب
جواب مختصر
سورۃ الملک کی احادیث میں بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ، جہاں یہ آدمی کو عذاب قبر سے بچاتی ہے وہیں یہ اپنے پڑھنے والے کی شفاعت بھی کرے گی اور یاد رہے کہ اگر قبرمیں عذاب ہوگاتو قیامت میں بھی جہنم کا عذاب اس سے بھى سخت ہوگا۔اگر قبر میں انعامات ہوں گے تو آخرت کے انعامات اس سے بھى زیادہ ہونگے۔ ([1]) ۔ لہذا اس کی تلاوت سونے سے قبل ہر مؤمن مسلمان کو کرنی چاہیئے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
سورۃ الملک کےبارے میں حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ یہ عذاب قبر سے بچاتى ہے۔ اور یہ سورۃ اپنے پڑھنے والے کى قیامت میں شفاعت کرے گى۔ اس سلسلے میں متعدد حدیثیں وارد ہیں:
1- حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
«إنَّ سُورةً مِن القُرآنِ ثلاثونَ آيةً شَفَعَتْ لِرَجلٍ حتَّى غُفِرَ له، وَهي: تَبارَكَ الّذِي بِيدِه الملْكُ» ([2])۔
ترجمہ: "قرآن مجید کی ایک سورت ہے جس کی تیس آیات ہیں، وہ آدمی کی اس وقت تک سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے، اور وہ ہے سورہ " تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ المُلْكُ"۔
2- حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
« أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الم تَنْزِيلُ ، وَتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ المُلْكُ» ([3])۔
ترجمہ: " نبی ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سورۃ سجدہ اور سورۃ الملک نہ پڑھ لیں"
3- حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
" مَنْ قَرَأَ ( تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ) كُلَّ لَيْلَةٍ مَنَعَهُ اللهُ بِهَا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَكُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ نُسَمِّيهَا الْمَانِعَةَ، وَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللهِ سُورَةٌ مَنْ قَرَأَ بِهَا فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فَقَدْ أَكْثَرَ وَأَطَابَ"([4])۔
ترجمہ: " جو شخص سورۃ الملک ہر رات پڑھے تو اللہ تعالی اس سے عذاب قبر کو روک لے گا، اور ہم رسول اللہ ﷺکے زمانے میں اسے مانعہ [یعنی روکنے والی]کہتے تھے، اور یہ قرآن مجید میں ایک ایسی سورت ہے جو اسے ہر رات پڑھ لے تو وہ بہت زیادہ اور اچھا عمل کرتا ہے"
مندرجہ بالا حدیثوں سے رات میں سونے سے پہلے سورۃ الملک پڑھنے کى فضیلت کاپتہ چلتا ہے کہ یہ سورۃ اسے قبر میں اور قیامت کے دن بھى فائدہ پہونچائے گى۔
در اصل قبر آخرت کى پہلى منزل ہے۔ اگر قبر میں کوئى شخص عذاب سے بچ گیا تو اللہ سے امید ہے کہ قیامت میں بھى اس کى مغفرت ہوجائے گى۔ لیکن اگرقبر میں عذاب ہوا تو قیامت کا عذاب اس سے بھى سخت ہوگا۔
خلیفہ راشد حضرت عثمان غنى رضی اللہ عنہ جب قبرپر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ داڑھى آنسؤوں سے بھیگ جاتى تھى۔ آپ سے پوچھا گیا : جب آپ کے سامنے جنت وجہنم کا ذکر ہوتا ہے تو آپ اتنا نہیں روتے۔ لیکن قبر کے بیان سےروتے ہیں۔ حضرت عثمان غنى رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
»إِنَّ القَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ «قال: وقال رَسولُ اللهِ ﷺ »ما رَأيْتُ مَنْظرًا قَطُّ إلَّا القَبْرُ أفظَعُ مِنْهُ« ([5])
ترجمہ : " آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، اگر کسی نے قبرکے عذاب سے نجات پائی تواس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے"۔
عثمان رضی اللہ عنہ نے مزید کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:'گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اورمنظر کو نہیں دیکھا"۔
قبر آخرت کى منزلوں میں سے پہلى منزل ہے۔ قبر کے بعد قیامت قائم ہوگى۔حساب وکتاب ہوگا۔ پل صراط سے گزرنا ہوگا۔ پھر جنت یا جہنم ہوگی ۔
اگر قبرمیں عذاب ہوگاتو قیامت میں جہنم کا عذاب اس سے بھى سخت ہوگا۔اگر قبر میں انعامات ہوں گے تو آخرت کے انعامات اس سے بھى زیادہ ہونگے۔ ([6]) ۔
لیکن ہر شخص کى کیفیت ایسى نہیں ہوتى کہ اگر اسے قبر میں عذاب نہ ہو تو مطلب وہ نیک ہے اور قیامت میں بھى اسے عذاب نہیں ہوگا۔ ایسا نہیں ہے۔ کبھى کبھى عذاب قبر بہت ہلکا ہوتا ہے اس کے کئى اسباب ہوتے ہیں مثلاً کسى کى دعا ،کسى کى شفاعت ،بندہ کا کوئى خاص عمل جو اسے عذاب قبر سے نجات دلانے والا ہو۔ وغیرہ
لیکن اگر وہ عذاب قبر سے بچ گیا تو قیامت میں اس کا حساب وکتاب ہوگا۔ اسى کے مطابق جزا وسزا ہوگى۔
عذاب کا تعلق در اصل محض اللہ تعالى کے فضل وکرم اور عفو ودر گزر سے ہے کہ کبھى کبھى وہ گناہ کرتے ہوئے بھى بندہ کو گناہ مٹانے والے اعمال کى توفیق بخش دے۔
خلاصہ یہ کہ قرآن مجید سے حقیقى فائدہ اٹھانے کے لئے اس پر عمل کرنا بھى ضرورى ہے۔ بغیر عمل کے تلاوت حقیقى فائدہ مند نہیں۔ حضرت ابو مالک اشعرى رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبى ﷺفرماتے ہیں «الْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ، أوْ عَلَيْكَ» ([7])۔ قرآن یا تو آپ کے لئے حجت ہے یا آپ پر حجت ہے۔
اگر کوئى شخص قرآن مجید کى تلاوت کرے اور ساتھ ساتھ گناہ بھى کرتا رہے تویہ انتہائى غلط کام ہے۔ اس طرح قرآن مجید کى تلاوت اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتى۔
واللہ اعلم

