سوال
دیوالى کے موقع پر کیا مسلمان دوکاندار اپنا سامان فروخت کرسکتا ہے؟ اسى طرح کیا مسلمان دیوالى کى مناسبت سے لگےآفرز سے فائدہ اٹھاسکتا ہے؟
جواب
جواب مختصر
غیر مسلموں کے تہواروں میں معاونت کرنا در اصل معصیت کے کاموں میں ان کى مدد کرنا ہے۔ لہذا مسلم بھائی کو چاہیئے کہ دیوالى یا غیر مسلموں کے دوسرے تہواروں میں کوئى ایسى چیز نہ بیچے جس سے وہ اپنے اس معاصى اور نافرمانى والے كاموں ميں مدد پائیں، کیونکہ اللہ تعالى نے مسلمانوں کو کسى بھى طرح کے معصیت ، نافرمانى اور غیر شرعى کاموں میں تعاون سے منع فرمایا ہے۔
لہذا مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ كوئى ايسى چيز نہ فروخت كرے جس کا تعلق غیر مسلم کے تہوار سے ہو اور جس سے وہ اپنا تہوار منانے ميں معاونت حاصل كريں، اسی طرح مسلمانوں كو بھى وہ اشياء فروخت نہ كى جائيں جو ان تہواروں ميں كفار كے ساتھ مشابہت اختيار كرنے ميں معاون ثابت ہوں۔
سوال کا پہلا رخ : خرید وفروخت میں اصل جواز ہے، لہذا ہر مسلمان دیوالی یا دیگر تہوار کے موقعہ پر لگے آفرسے فائدہ اٹھا سکتا ہے بس یاد رہے کہ کسی ایسی چیز کی خریداری نہ کرے جو ان کے تہوار کے لئے معاون ثابت ہو ، ورنہ تجارت میں اصل جواز ہے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
مسلمان شخص كے ليے دیوالى یا غیر مسلموں کے دوسرے تہواروں (مثلا: كرسمس، اور يہود و نصارى يا بدھ مت يا دوسرے ہندو تہواروں ) كے روز اپنى دوكانيں اور سپر ماركيٹ كھولنےميں كوئى ممانعت نہيں ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ وہ كوئى ايسى چيز فروخت نہ كرے جو غیر مسلم کے تہوار سے جڑى ہو۔ غیر مسلم اسے تہوارمیں استعمال کرتے ہوں۔ اس میں ( مبارک بادى والے کارڈز، موم بتياں، فانوس، مجسمے، تصویریں، دیے، پھول اورخوشبو وغیرہ شامل ہیں۔
غیر مسلموں کے تہواروں میں معاونت کرنا در اصل معصیت کے کاموں میں ان کى مدد کرنا ہے۔ لہذا کوئى ایسى چیز نہ بیچے جس سے وہ اپنے اس معاصى اور نافرمانى والے كاموں ميں معاونت حاصل كر سكيں۔
اور اسى طرح وہ مسلمانوں كے ليے بھى كوئى ايسى چيز فروخت نہ كرے جس كے استعمال سے وہ ان تہواروں ميں كفار كے ساتھ مشابہت اختیار کریں۔
اللہ تعالى نے مسلمانوں کو کسى بھى طرح کے معصیت ، نافرمانى اور غیر شرعى کاموں میں تعاون سے منع فرمایا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
"وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ " المَائـِدَة : 2
ترجمہ: " اور نيكى و بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہو اور تم گناہ و ظلم وزيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو، اور اللہ تعالى سے ڈرتے رہو اس كا تقوى اختيار كرو يقينا اللہ تعالى شديد سزا دينے والا ہے"۔
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" ولا يبيع المسلم ما يستعين به المسلمون على مشابهتهم في العيد، من الطعام واللباس ونحو ذلك ؛ لأن في ذلك إعانة على المنكر "([1])۔
ترجمہ: " مسلمان كسى بھى مسلمان کو كوئى ايسى چيز فروخت نہ كرے جس کا تعلق غیر مسلموں کے تہوار سے ہو لباس یا کھانے کے اقسام وغیرہ۔ اس لئے کہ اس میں برائى اور منكر ميں معاونت ہوتى ہے " ۔
مزید فرماتے ہيں:
" فأما بيع المسلمين لهم [أي للكفار] في أعيادهم ما يستعينون به على عيدهم من الطعام واللباس والريحان ونحو ذلك، أو إهداء ذلك لهم، فهذا فيه نوع إعانة على إقامة عيدهم المحرم " .([2])۔
ترجمہ: " مسلمانوں كا كفار كو ان كے تہواروں كے موقع پر وہ اشياء فروخت كرنا جس سے انہیں اپنے تہوار منانے میں مدد ملتى ہو چاہے وہ كھانا ہو يا لباس يا خوشبو اور پھول وغيرہ، يا انہيں يہ اشياء بطور ہديہ دينا، يہ سب كچھ انہيں حرام تہوار منانے ميں ايك قسم كى معاونت ميں شمار ہوتا ہے"
اس سلسلے میں ابن تیمیہ نے ابن حبيب مالكى رحمہ اللہ سے ان كا يہ قول نقل كيا ہے كہ:
" كيا آپ ديكھتے نہيں كہ مسلمانوں كے ليے حلال نہيں كہ وہ نصارى كو كوئى بھى ايسى چيز فروخت كريں جو انہيں ان كے تہوار منانے ميں معاون ہو، نہ تو گوشت، اور نہ ہى سالن، اور نہ ہى لباس، اور نہ ہى انہيں كوئى سوارى عاريتا دى جائيگى، اور نہ ہى ان كے تہوار ميں ان كى كسى بھى قسم كى معاونت كى جائيگى؛ كيونكہ يہ سب كچھ ان كے شرك كى تعظيم ميں شامل ہوتا ہے، اور ان كے كفر پر ان كى معاونت ہے، مسلمان حكمرانوں كو ايسے كام كرنے سے روكنا چاہيے۔ امام مالك وغيرہ كا بھى يہى قول ہے، اس ميں مجھے كسى بھى اختلاف كا علم نہيں " ([3])۔
حاصل يہ ہوا كہ: كفار كے تہواروں ميں مسلمانوں كے ليے اپنى دوكانيں اور سپر ماركيٹ دو شرطوں كے ساتھ كھولنى جائز ہيں:
پہلى شرط:وہ كوئى ايسى چيز فروخت نہ كرے جو غیر مسلم کے تہوار سے جڑى ہو۔ اور جس سے وہ اپنا تہوار منانے ميں معاونت حاصل كريں، اور ا سے معصيت و نافرمانى ميں استعمال كريں۔
اس میں وہ چیزیں بھى شامل ہیں جن کے بارے میں غالب گمان ہو کہ اس کا استعمال غیر مسلموں کے تہواروں میں ہوگا۔
دوسرى شرط:مسلمانوں كو بھى وہ اشياء فروخت نہ كى جائيں جو ان تہواروں ميں كفار كے ساتھ مشابہت اختيار كرنے ميں معاون ثابت ہوں۔
سوال کا دوسرا حصہ دیوالى کے موقع سے لگنى والے سیل یا آفر سے متعلق ہے کہ کیا مسلمان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
خرید وفروخت میں اصل جواز ہے۔ مسلمان ان تہواروں کى مناسبت سے لگنے والے آفرز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ انسان ایسی کسی چیز کی اِن دنوں میں خریداری نہ کرے جو اُن کےتہوار کیلئے معاون ثابت ہوں۔ یا ان میں کفار کى مشابہت ہو۔
خریداری کیلئے اصل جواز ہے، چنانچہ انکے تہوار کے موقع پر اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
واللہ اعلم

