سوال
نماز میں قرآنى آیتیں سن کر ان کا جواب دینا کیسا ہے؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اختصار:
فرض نماز میں آیتوں کا جواب دینے کى صرف ایک صورت ثابت ہے: جب امام سورۃ الفاتحہ پڑھے تو مقتدى آمین کہے۔ نفل نماز میں امام یا اکیلے نماز پڑھنے والے کے لئے آیات رحمت پر دعا مانگنا، آیات عذاب پر پناہ طلب کرنا اور آیات تسبیح پر سبحان اللہ کہنا ثابت ہے کیونکہ نبى ﷺ نے ایسا کیا۔ مقتدى (امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے) کے لئے کسى بھى نماز میں اس طرح آیتوں کا جواب دینا ثابت نہیں۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
(۱) فرض نماز میں:
فرض نماز میں تلاوت کے دوران آیتوں کا جواب دینے کى صرف ایک چیز ثابت ہے: جب امام سورۃ الفاتحہ پڑھے تو مقتدى "آمین" کہے۔ یہ متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
اس کے علاوہ فرض نماز میں آیتوں کا جواب دینے کى کوئى صحیح دلیل نہیں ہے۔
(۲) نفل نماز میں:
نفل نماز میں امام یا اکیلے نماز پڑھنے والے کے لئے آیتوں کا جواب دینا ثابت ہے۔ حضرت حذیفہ بن الیمان رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات نبى ﷺ کے ساتھ نفل نماز پڑھى:
كَانَ يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ اسْتَعَاذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ سَبَّحَ
"آپ ﷺ آہستہ آہستہ تلاوت فرماتے تھے۔ جب رحمت کى آیت پر پہنچتے تو دعا مانگتے، جب عذاب کى آیت پر پہنچتے تو پناہ طلب کرتے اور جب تسبیح والى آیت پر پہنچتے تو سبحان اللہ کہتے۔" ([1])
یہ حدیث اس بات کى دلیل ہے کہ نفل نماز میں امام یا منفرد آیتوں کا یہ جواب دے سکتا ہے۔
(۳) مقتدى کے لئے:
مقتدى (امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے) کے لئے کسى بھى نماز، فرض ہو یا نفل، میں آیتوں کا اس طرح جواب دینے کى کوئى دلیل نہیں ہے۔ یہ عمل بدعت ہے کیونکہ نبى ﷺ اور صحابہ کرام سے یہ ثابت نہیں۔
واللہ اعلم

