سوال
مرد اور عورت کى نماز میں کیا فرق ہے؟
جواب
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد
عورت اور مرد کى نماز کى کیفیت میں کوئى فرق نہیں ہے۔ نبى ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي» ([1])
"تم اسى طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔"
رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہوتا ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کى نماز اور مرد کى نماز کى ادائیگى و کیفیت میں کوئى فرق نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کى احادیث مبارکہ سے نماز کى ہیئت، تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک مرد و عورت کے لئے ایک ہى ہے۔ تکبیر تحریمہ، سینے پر ہاتھ باندھنا، رکوع کرنا، اس میں پیٹھ برابر کرنا، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا، اور رفع یدین میں ہاتھوں کو کاندھوں یا کانوں کى لو تک اٹھانا، رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا، سجدوں میں ہاتھوں کو زمین پر کانوں تک یا مونڈھوں تک پھیلانا، قیام اور رکوع و سجود اور تشہد کى دعائیں، غرض ان تمام حرکات میں عورت اور مرد برابر ہیں۔
البتہ عورت اور مرد کى نماز کے بعض احکام مختلف ہیں:
- مرد اذان و اقامت دے سکتا ہے، لیکن عورت اذان و اقامت نہیں دے سکتى۔
- نماز میں اگر امام صاحب سے غلطى ہوجائے تو مرد سبحان اللہ کہیں گے، البتہ خواتین آواز نہیں دیں گى بلکہ ہاتھوں کى آواز سے غلطى کى طرف اشارہ کریں گى۔
- لباس اور پردے میں فرق ہے: عورت ننگے سر نماز نہیں پڑھ سکتى اور اس کے ٹخنے بھى ننگے نہیں ہونے چاہئیں۔
برصغیر میں مشہور فرق کا حکم:
البتہ برصغیر ہند و پاک میں مرد و عورت کى نماز میں بعض لوگ اختلاف کرتے ہیں، جبکہ اس کى کوئى دلیل کتاب و سنت سے ثابت نہیں۔
مثلاً مرد ناف کے نیچے اور خواتین سینے پر ہاتھ باندھتى ہیں، مرد سجدے کے دوران بازو زمین سے اٹھائے رکھتے ہیں اور عورتیں بازو بالکل زمین کے ساتھ لگا کر سجدہ کرتى ہیں، وغیرہ۔
مرد اور عورت کى نماز میں جو یہ فرق کیا جاتا ہے کسى بھى دلیل سے اس کى تائید نہیں ہوتى۔ یہ فرق بعض فقہاء نے خواتین کے پردہ کے لحاظ سے بیان کیا ہے جو کسى صحیح یا ضعیف حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کى احادیث مبارکہ سے نماز کى ہیئت، تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک مرد و عورت کے لئے ایک ہى ہے۔
واللہ اعلم

