سوال
شوال کے چھے روزہ رکھنا کیسا ہے؟ کیا شوال کے چھ (6) روزے رکھنے والى روایت ضعیف ہے؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اختصار:
شوال کے چھے روزے رکھنا مستحب ہے۔ اکثر اہل علم نے اسے مستحب کہا ہے احادیث مبارکہ میں اس کى ترغیب آئى ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث (من صام رمضان...) کى روشنى میں بعض اہل علم نے شوال کے چھے روزے رکھنا مستحب کہا ہے۔ ابن المبارک فرماتے ہیں: یہ بہتر (اچھا عمل) ہے۔ یہ ہر مہینے تین روزے رکھنے جیسا ہے۔ ([1])
ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں تک اس حدیث پر عمل کرنے کا معاملہ ہے تو اکثر علماء نے شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب قرار دیا ہے۔ ([2])
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
شوال کے چھ (6) روزہ رکھنا مستحب ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس کى ترغیب آئى ہے۔ اور اس سلسلے میں صحیح روایت موجود ہے۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
«مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ»
"جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔" ([3])
یہ صحیح مسلم کى روایت ہے اور صحیح روایت ہے۔
دراصل اس حدیث میں ایک راوى (سَعْد بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْس) ہیں۔ ان کے ثقہ ہونے سے متعلق محدثین میں اختلاف ہے۔ بعض نے انہیں مطلقاً ضعیف کہا ہے۔ بعض نے متابعت اور شواہد کى بنا پر ان کى حدیثیں قبول کى ہیں۔
امام ترمذى رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سعد بن سعید یہ یحیى بن سعید انصارى کے بھائى ہیں۔ بعض اہل علم نے سعد بن سعید کے حافظہ سے متعلق کلام کیا ہے۔ ([4])
ابن عدى رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سعد بن سعید یہ یحیى بن سعید انصارى کے بھائى ہیں۔ اور یہ ضعیف ہیں۔ ([5])
امام ابن حبان فرماتے ہیں: "ان کا ضعف اور وہم زیادہ نہیں ہے۔ اس لئے میں نے ان کے بارے میں معتدل رائے قائم کى ہے۔" ابن حبان نے انہیں ثقہ شمار کیا ہے۔ ان کا ذکر اپنى مشہور کتاب (الثقات) میں کیا ہے۔ ([6]) یہى رائے ابن عدى رحمہ اللہ کى بھى ہے۔ ([7])
محدثین کے جرح وتعدیل کے اصول کے مطابق جب کسى راوى کے ثقہ اور ضعیف ہونے سے متعلق اختلاف ہو تو دیکھا جاتا ہے کہ حدیثیں بیان کرنے میں ان سے کتنى غلطیاں ہوئى ہیں یا کتنى مرتبہ ان کا حافظہ خطا ہوا ہے؟ اگر غلطیاں یا وہم زیادہ ہوں تو وہ راوى ضعیف ہوگا۔ لیکن اگر غلطیاں کم ہوں اور کبھى کبھى حدیث بیان کرتے وقت ان کا حافظہ خطا ہوجاتا ہو تو ایسے راوى کو (صدوق) کہتے ہیں۔ حافظ ابن حجر ایسے راویوں کو (صدوق یہم) کہتے ہیں۔ یعنى ایسے راویوں سے حدیثیں بیان کرتے وقت کبھى غلطى ہوجاتى ہے۔ ایسے راوى کى ہر روایت کى تحقیق کى جاتى ہے۔
اگر وہ کسى روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہوں تو ان کى روایت قبول کرنے میں توقف اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے جس راوى سے روایت بیان کى ہے اگر کسى اور ثقہ راوى نے بھى اس راوى سے وہى روایت بیان کى ہے تو ایسى روایت مقبول ہوگى۔ کیونکہ اس میں یقین ہوجاتا ہے کہ اس میں ان سے غلطى نہیں ہوئى ہے۔ تو ایسے راوى (صدوق یہم) کى روایت کو متابعت کى بنیاد پر بھى قبول کرلیا جاتا ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ فن حدیث کے جلیل القدر اور عظیم المرتبت امام ہیں۔ اپنى مایہ ناز کتاب صحیح مسلم میں سعد بن سعید کى روایت ذکر کرنے کا مطلب ہى یہى ہے کہ یہ روایت ان کے نزدیک قابل قبول ہے۔ صوم شوال سے متعلق ان کى روایت کو امام مسلم نے متابعت کى بنیاد پر قبول کیا ہے۔ اور متعدد رواۃ نے اس حدیث پر ان کى متابعت کى ہے اور ان سے یہ روایت نقل کى ہے۔
مشہور محدث ابن عدى رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«حَدِيثُ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ... فَهُوَ مَشْهُورٌ، وَمَدَارُ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَيْهِ، قَدْ حَدَّثَ بِهِ عَنْهُ: يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخُوهُ، وَشُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُمْ مِنْ ثِقَاتِ النَّاسِ»
"مشہور روایت: من صام رمضان... یہ روایت ابو ایوب سے عمر بن ثابت نے روایت کى ہے اور عمر بن ثابت سے سعد بن سعید نے۔ اس حدیث کا دار و مدار سعد بن سعید پر ہے۔ ان سے یہ حدیث ان کے بھائى یحیى بن سعید، شعبہ، ثورى اور ابن عیینہ جیسے ثقہ راویوں نے روایت کى ہے۔" ([8])
مشہور حنفى فقیہ امام طحاوى فرماتے ہیں:
«فَكَانَ هَذَا الْحَدِيثُ مِمَّا لَمْ يَكُنْ بِالْقَوِيِّ فِي قُلُوبِنَا، لِمَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَلَيْهِ فِي الرِّوَايَةِ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَمِنْ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُ، حَتَّى وَجَدْنَاهُ قَدْ أَخَذَهُ عَنْهُ مَنْ قَدْ ذَكَرْنَا أَخَذَهُ إِيَّاهُ عَنْهُ، مِنْ أَهْلِ الْجَلَالَةِ فِي الرِّوَايَةِ وَالثَّبْتِ فِيهَا، فَذَكَرْنَا حَدِيثَهُ لِذَلِكَ»
امام طحاوى فرماتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک سعد بن سعید کى وجہ سے یہ روایت ہمارے یہاں قوى نہیں تھى، لیکن متعدد جلیل القدر ثقہ راویوں کى ان سے روایت کى بنا پر ہم نے اس حدیث کو قبول کیا ہے۔ ([9])
چونکہ یہ خالص فن حدیث کا مسئلہ ہے اس لئے اس کى تفصیل مطوّل ہوسکتى ہے۔ لیکن مختصراً اہم باتوں کا تذکرہ کردیا گیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ حدیث صحیح اور مقبول ہے۔ کوئى کہہ سکتا ہے کہ اگر یہ روایت صحیح ہے تو امام بخارى نے اسے روایت کیوں نہیں کیا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ امام بخارى کا کسى حدیث کو روایت نہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ روایت صحیح نہیں ہے۔ بہت سى صحیح روایتیں ایسى ہیں جسے امام بخارى نے اپنى کتاب میں ذکر نہیں کیا ہے۔ یہ بات فن حدیث کے مبتدى طلبہ بھى جانتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ شوال کے چھے روزے رکھنا مستحب ہے۔ اکثر اہل علم نے اسے مستحب کہا ہے۔
امام ترمذى رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث (من صام رمضان...) کى روشنى میں بعض اہل علم نے شوال کے چھے روزے رکھنا مستحب کہا ہے۔ ابن المبارک فرماتے ہیں: یہ بہتر (اچھا عمل) ہے۔ یہ ہر مہینے تین روزے رکھنے جیسا ہے۔ ([10])
ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں تک اس حدیث پر عمل کرنے کا معاملہ ہے تو اکثر علماء نے شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب قرار دیا ہے۔ ([11])
شوال کے چھ روزے رکھنے سے متعلق اگر کوئى کہے کہ نبى ﷺ کے بارے میں یہ منقول نہیں کہ آپ نے یہ روزے رکھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر منقول نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں روزے رکھنا ثابت نہیں۔ ہوسکتا ہے نبى ﷺ نے روزے رکھے ہوں اور کسى کو پتہ نہ چلا ہو۔
واللہ اعلم

